خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 6
خطبات مسرور جلد 12 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جنوری 2014ء ٹی وی نے جو گھانا براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کاٹی وی ہے ، ہمارے ایم ٹی اے کے پروگرام دینے شروع کئے ہیں۔جب 2013ء کا جلسہ ہوا ہے تو اُس کے پروگرام انہوں نے دکھائے اور یہ جو پروگرام ہیں یہ سیٹلائٹ کے ذریعہ گھانا کے علاوہ ہمسایہ ملکوں میں بھی جا رہے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ غیر معمولی طور پر حقیقی اسلام کا پیغام پہنچانے کے راستے کھول رہا ہے۔اس سال میں جو میری مختلف ریسپشنز ہوئی ہیں اُن میں شامل ہونے والے بھی بڑے متاثر ہوئے۔پڑھا لکھا طبقہ جو سیاستدان اور پالیسی بنانے والے تھے اُن کو جب اسلام کی حقیقی تعلیم کا پتہ چلا تو اُن کے لئے یہ تصور بالکل نیا تھا۔جبکہ یہ تصور نہیں تعلیم ہے اور حقیقت ہے۔اُن کے لئے بڑی حیرت والی بات تھی کہ اسلام کی اس طرح کی تعلیم بھی ہے۔پس کن کن فضلوں کو انسان گئے۔بعض منافق طبع لوگ اس بارے میں یہ بھی باتیں کر دیتے ہیں کہ یہ فلاں کے ذریعہ سے ہوا یا اتنا خرچ کیا گیا تو ہوا۔بہر حال جماعت میں چند ایک لوگ ہی ایسے ہیں۔نہ تو اس جماعت کے پیغام پہنچانے کے لئے کسی شخص کی ضرورت ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور نہ خرچ کیا جاتا ہے جس طرح لوگوں میں بلا وجہ کی افواہیں پھیلانے والے بعض پھیلا دیتے ہیں۔تو ایسے لوگوں سے بھی جماعت کے افراد کو ہشیار ہونا چاہئے۔یہ منافق لوگ بڑے طریقے سے باتیں کرتے ہیں۔اتنے وسیع پیمانے پر جیسا کہ میں نے بتایا ہے کسی شخص کی کوشش سے یہ کام نہیں ہو سکتا۔یہ محض اور محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔اور اگر اللہ تعالیٰ نہ چاہتا تو ہم جتنی بھی کوشش کر لیتے یہ بھی نہ ہوتا۔بلکہ اب تو میں نے مختلف سفروں میں یہ دیکھا ہے کہ بعض بڑے لوگ ہیں جن سے ملنے کی لوگ بڑی خواہش کرتے ہیں، انہوں نے ملنے کا کہا لیکن میں نے کسی وجہ سے انکار کر دیا تو اُس کے بعد انہوں نے بڑی لجاجت سے بار بار ملنے کی خواہش کی اور ہماری جماعت کے افراد اس بات کے گواہ ہیں۔اس لئے یہ وہم کسی کے دل میں آنا کہ کسی کے ملنے سے ہماری جماعت کا پیغام دنیا میں پہنچتا ہے یا کسی شخص کے ذریعہ سے پیغام پہنچتا ہے، یہ انتہائی غلط تصور ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جو اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے اور یہی اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود وعلیہ الصلوۃ والسلام سے وعدہ ہے کہ ”میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔کسی شخص نے نہیں پہنچانا۔پس ہر احمدی کو یا درکھنا چاہئے کہ نہ ہم نے کسی دنیاوی آدمی اور لیڈر سے کچھ لینا ہے، نہ ہمیں اس کی ضرورت ہے۔ہمارا انحصار خدا تعالیٰ کی ذات پر ہے وہی ہمارا مولیٰ ہے اور وہی ہمارا مددگار ہے جو جماعت کی ترقی کے غیر معمولی نظارے ہمیں دکھا رہا ہے۔