خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 113 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 113

خطبات مسرور جلد 12 113 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 فروری 2014ء جناب اختر اور بینوی صاحب (ایم۔اے صدر شعبہ اردو پٹنہ یونیورسٹی) تفسیر کے بارے میں، پروفیسر عبدالمنان بیدل صاحب (سابق صدر شعبہ فاری پٹنہ کالج) کا اپنا ایک چشم دید واقعہ بیان کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ : میں نے یکے بعد دیگرے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی تفسیر کبیر کی چند جلدیں پروفیسر عبد المنان بیدل سابق صدر شعبہ فاری پٹنہ کالج، پٹنہ وحال پر نسپل شبینہ کا لج پٹنہ کی خدمت میں پیش کیں اور وہ ان تفسیروں کو پڑھ کر اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے مدرسہ عربیہ شمس الہدئے کے شیوخ کو بھی تفسیر کی بعض جلدیں پڑھنے کے لئے دیں اور ایک دن کئی شیوخ کو بلوا کر انہوں نے ان کے خیالات دریافت کئے۔ایک شیخ نے کہا کہ فارسی تفسیروں میں ایسی تفسیر نہیں ملتی۔پروفیسر عبدالمنان صاحب نے پوچھا کہ عربی تفسیروں کے متعلق کیا خیال ہے شیوخ خاموش رہے۔کچھ دیر کے بعد ان میں سے ایک نے کہا پٹنہ میں ساری عربی تفسیریں ملتی نہیں ہیں۔مصر و شام کی ساری تفاسیر کے مطالعہ کے بعد ہی صحیح رائے قائم کی جاسکتی ہے۔پروفیسر صاحب نے قدیم عربی تفسیروں کا تذکرہ شروع کیا اور فرمایا مرزا محمود کی تفسیر کے پایہ کی ایک تفسیر بھی کسی زبان میں نہیں ملتی۔آپ جدید تفسیریں بھی مصر و شام سے منگوا لیجئے اور چند ماہ بعد مجھے سے باتیں کیجئے۔عربی وفارسی کے علماء مبہوت رہ گئے۔“ ( تاریخ احمدیت جلد 8 صفحہ 157-158 مطبوعہ ربوہ) پھر سید جعفر حسین صاحب ایڈووکیٹ نے ایک مختصر مکتوب کے بعد ایک مفصل مضمون بھی اخبار صدق جدید کو بھجوایا جس میں وہ صدق جدید کے ایڈیٹر کو لکھتے ہیں کہ حصول دار السلام کی جدو جہد میں مجھے جب جیل پہنچایا گیا تو تیسرے دن مجھے وجوہات نظر بندی تحریری شکل میں مہیا کئے گئے۔جن میں میری گزشتہ تین چار برسوں کی تقریروں کے اقتباسات تھے۔اور الزام یہ تھا کہ میں ہندوستان کی حکومت کا تختہ الٹ کر اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتا ہوں۔میں حیران تھا کہ مجھ جیسا چھوٹا آدمی اور یہ پہاڑ جیسا الزام۔لیکن مجھے آہستہ آہستہ محسوس ہوا کہ میری تقریروں سے کچھ ایسا ہی مفہوم اخذ کیا جا سکتا ہے۔میں نے آپ سے عرض کیا تھا کہ میں بھٹکا ہوا مسافر تھا جس کی منزل تو متعین تھی لیکن راستے کا پتا نہ تھا۔مسلمانوں کی انجمن اتحاد المسلمین ہو یا کوئی اور جماعت ، ان سب کی حالت یہی ہے۔( کہتے ہیں کہ ) دوسرے دن میں نے تفسیر کبیر کا مطالعہ شروع کیا ( جو اُن کے ایک دوست نے اسی جیل میں ہی دی تھی۔) جو میں اپنے ساتھ لے کر گیا تھا۔تو مجھے اس تفسیر میں زندگی سے معمور اسلام نظر آیا۔( یہ احمدی نہیں تھے ) اس میں وہ سب کچھ تھا جس کی مجھ کو تلاش تھی۔تفسیر کبیر پڑھ کر میں قرآن کریم سے پہلی دفعہ روشناس ہوا۔جیسا کہ آپ نے ارشاد