خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 112 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 112

خطبات مسرور جلد 12 112 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 فروری 2014ء غرض حضور کے علوم ظاہری و باطنی سے پر ہونے کے متعلق ایک بڑی تفصیل ہے جس کے ہزارویں حصہ تک بھی ہم نہیں پہنچ سکتے۔جیسا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے فرمایا تھا کہ صرف تفسیر ہی حضرت مصلح موعود کے مقام کو منوانے کے لئے بہت کافی ہے۔یقینا ان تفاسیر نے قرآن کریم کو سمجھنے کا جو نیا انداز اور علوم و معارف کے گہرے راز کھولے ہیں ، وہ ہمیشہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حصہ رہیں گے۔66 اس وقت میں آپ کی تفسیر پر بعض غیروں کے تبصرے پیش کرتا ہوں۔علامہ نیاز فتح پوری صاحب حضرت مصلح موعود کو اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں کہ : "تفسیر کبیر جلد سوم آج کل میرے سامنے ہے۔( یہ احمدی نہیں تھے ) اور میں اسے بڑی نگاہ غائر سے دیکھ رہا ہوں۔اس میں شک نہیں کہ مطالعہ قرآن کا ایک بالکل نیا زاویہ فکر آپ نے پیدا کیا ہے اور یہ تفسیر اپنی نوعیت کے لحاظ سے بالکل پہلی تفسیر ہے جس میں عقل و نقل کو بڑے حسن سے ہم آہنگ دکھایا گیا ہے۔آپ کی تجر علمی۔آپ کی وسعتِ نظر، آپ کی غیر معمولی فکر وفر است، آپ کا حسن استدلال اس کے ایک ایک لفظ سے نمایاں ہے۔اور مجھے افسوس ہے کہ میں کیوں اس وقت تک بے خبر رہا۔کاش کہ میں اس کی تمام جلدیں دیکھ سکتا۔کل سورۃ ہود کی تفسیر میں حضرت لوط پر آپ کے خیالات معلوم کر کے جی پھڑک گیا اور بے اختیار یہ خط لکھنے پر مجبور ہو گیا آپ نے ھؤلاء بناتي “ کی تفسیر کرتے ہوئے مفسرین سے جدا بحث کا جو پہلو اختیار کیا ہے اس کی داد دینا میرے امکان میں نہیں۔خدا آپ کو تادیر سلامت رکھے“۔پایا یہ بڑ یہ اُس وقت انہوں نے دعادی۔( تاریخ احمدیت جلد 8 صفحہ 157 مطبوعہ ربوہ) پھر علامہ نیاز فتح پوری صاحب ہی ایک دوسرے خط میں لکھتے ہیں: تفسیر کبیر برابر پیش نظر رہی اور رات کو تو بالالتزام اُسے دیکھتا ہوں۔میں نے اُسے کیسا تفصیل طلب بات ہے۔لیکن مختصر یوں سمجھ لیجئے کہ میرے نزدیک یہ اردو میں بالکل پہلی تفسیر ہے جو بڑی حد تک ذہن انسانی کو مطمئن کر سکتی ہے۔اس میں شک نہیں کہ آپ کے ادارے نے اس تفسیر کے ذریعہ سے جو خدمت اسلام کی انجام دی ہے وہ اتنی بلند ہے کہ آپ کے مخالف بھی اس کا انکار نہیں کر سکتے“۔( تفسیر کبیر جلد 7 تعارفی نوٹ ، مطبوعہ ربوہ)