خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 111 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 111

خطبات مسرور جلد 12 111 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 فروری 2014ء لکھے ہیں۔اس وقت جو چھپی ہوئی صورت میں تفسیر کبیر کی دس جلدیں ہیں وہ تقریباً چھ ہزار صفحات بنتے ہیں۔اس کے علاوہ سورتوں کے نوٹس ہیں اور مختلف تقریروں میں بہت ساری جگہوں پر تفاسیر بیان کی گئی ہیں جو اس میں شامل نہیں۔پر کلام کے او پر حضرت خلیفہ مسیح الثانی نے دس کتب اور رسائل لکھے۔حضرت خلیفہ المسح الثالث کا جو اُس وقت جائزہ تھا یہ اُس کے مطابق ہیں۔تفسیر کبیر جو ہے دس جلدیں، اُس میں سورۃ فاتحہ اور سورۃ البقرة ، پہلی دوسورتیں، پھر سورۃ یونس سے سورۃ عنکبوت تک، دسویں سورۃ سے لے کر انتیسویں سورۃ تک ہے۔اُس کے بعد پھر پیچ میں لکھی نہیں گئیں ، چھپی نہیں۔پھر سورۃ النبأ سے لے کر الناس تک ہے۔گویا کہ تقریباً 59 سورتیں بنتی ہیں جن کی تفسیر لکھی۔اور یہ جو تفسیر ہے تقریباً چھ ہزار صفحات پر مشتمل ہے اور اس کو بہت باریک لکھا ہوا ہے۔اگر آج کل کے حساب سے لکھا جائے تو شاید دس بارہ ہزار صفحات بن جائیں۔بہر حال یہ دوبارہ پرنٹ ہو رہی ہے انشاء اللہ تعالی منظر عام پر آ جائے گی۔قرآن کریم کی گل 114 سورتیں ہیں۔جس کا مطلب ہے کہ 55 سورتیں ابھی اس میں شامل نہیں۔پھر کلام پر آپ کی دس کتب اور رسائل ہیں۔آپ نے روحانیات، اسلامی اخلاق اور اسلامی عقائد پر 31 کتب اور رسائل تحریر فرمائے۔سیرت و سوانح پر 13 کتب و رسائل لکھے۔تاریخ پر چار کتب اور رسائل لکھے۔فقہ پر تین کتب اور رسائل لکھے۔سیاسیات قبل از تقسیم ہند 25 کتب اور رسائل۔سیاسیات بعد از تقسیم ہند اور قیام پاکستان 9 کتب اور رسائل، سیاست کشمیر 15 کتب اور رسائل۔پھر تحریک احمدیت کے مخصوص مسائل اور تحریکات پر تقریباً 10 کتب اور رسائل۔اس کے علاوہ بے شمار اور مضامین ہیں۔جیسا کہ میں نے تفصیل بیان کی کہ یہ تعداد سینکڑوں میں چلی جاتی ہے۔تقریباً 800 سے اوپر چلی جائے گی۔تو خلیفہ ثالث فرماتے ہیں کہ ”جیسا کہ فرمایا تھا کہ وہ علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا۔ان پر ایک نظر ڈال لیں تو ان میں علوم ظاہری بھی نظر آتے ہیں اور علوم باطنی بھی نظر آتے ہیں اور پھر لطف یہ کہ جب بھی آپ نے کوئی کتاب یا رسالہ لکھا، ہر شخص نے یہی کہا کہ اس سے بہتر نہیں لکھا جاسکتا۔سیاست میں جب بھی آپ نے قیادت سنبھالی یا جب بھی آپ نے سیاست کے بارے میں قائدانہ مشورے دیئے ، بڑے سے بڑا مخالف بھی آپ کی بے مثال قابلیت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گیا۔(ماخوذ از ماہنامہ انصار اللہ حضرت مصلح موعود نمبر مئی، جون، جولائی 2009 صفحہ 64-65)