خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 110
خطبات مسرور جلد 12 110 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 فروری 2014ء ہوں۔اُس وقت ریکارڈنگ کا تو باقاعدہ انتظام نہیں تھا۔اُن کے بعض لیکچر ، تقاریر مکمل موجود ہیں ، بعض نہیں۔زود نویں ساتھ ساتھ لکھتے جاتے تھے اور بعض دفعہ پوری طرح لکھا بھی نہیں جاتا تھا۔بہر حال حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کتب لیکچرز اور تقاریر کا مجموعہ انوار العلوم“ کے نام سے فضل عمر فاؤنڈیشن شائع کر رہی ہے۔اس وقت تک انوار العلوم کی 24 جلدیں شائع ہو چکی ہیں۔اور ان جلدوں میں آپ کے گل 633 لیکچر اور تقاریر اور کتب آ چکی ہیں۔اور فضل عمر فاؤنڈیشن کی سکیم ہے، اُن کا اندازہ ہے کہ 32 جلدیں شائع ہوں گی۔اور اس طرح گل تقاریر، لیکچر اور کتب وغیرہ تقریباً ساڑھے آٹھ سو کے قریب بن جائیں گے۔24 جلدوں میں میں نے کہا آئیں۔25 سے 29 جلدیں جو ہیں وہ تیار ہو گئی ہیں، ابھی چھپی نہیں ہیں۔اُن میں 163 کتب، لیکچرز اور تقاریر شامل ہیں۔پھر اُس کے بعد تین اور رہ جائیں گی۔تو یہ تقریبا آٹھ سو سے اوپر چلی جائیں گی۔اسی طرح خطبات جمعہ اور عیدین اور نکاح ہیں۔ابھی تک جو لسٹ ملی ہے اس کے مطابق ان کی تعداد 2076 بنتی ہے۔اور خطبات محمود کی اس وقت گل 28 جلدیں شائع ہو چکی ہیں جن میں 1602 خطبات شامل ہیں۔اور 1948 ء سے 1959 ء تک کے خطبات 29 سے 39 جلد میں شائع ہوں گے۔ان میں بھی تقریباً 500 خطبات اور شامل ہو جا ئیں گے۔تو یہ آپ کے علمی کاموں کا ایک ہلکا سا عمومی خاکہ ہے، اور اگر ہر خطبے اور ہر تقریر کوسنیں، ہر لیکچر کو دیکھیں تو علم و عرفان کے ایسے موتی پروئے ہوئے نظر آتے ہیں اور علم کی ایسی نہر میں بہہ رہی ہوتی ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے بھی ایک دفعہ یہ تجزیہ پیش کیا تھا اور انہوں نے ایک پہلو’ وہ علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا کولے کے فرمایا تھا کہ اس میں ہی اتنی وسعت ہے کہ اس کو بیان کرتے چلے جائیں تو ختم نہیں ہوسکتا۔بہر حال اس سلسلہ میں حضرت خلیفہ امسیح الثالث نے فرمایا تھا کہ ” اس سلسلہ میں حضور کی ایک کتاب تو تفسیر کبیر ہے جو خود اتنی عجیب تفسیر ہے کہ جس شخص نے بھی غور سے اُس کے کسی ایک حصہ کو پڑھا ہو گا یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور ہوگا کہ اگر دنیا میں کوئی خدا رسیدہ بزرگ پیدا ہوتا اور وہ صرف یہ حصہ قرآنِ کریم کا تفسیری نوٹوں کے ساتھ شائع کر دیتا تو یہ اس کو دنیا کی نگاہ میں بزرگ ترین انسانوں میں سے ایک انسان بنانے کے لئے کافی تھا۔لیکن اس پر ہی بس نہیں، قرآن کریم پر اور بہت سی کتب لکھیں۔اور خلیفہ ثالث فرماتے ہیں کہ ”میرا خیال ہے کہ حضور نے صرف قرآنِ کریم کی تفسیر پر ہی آٹھ ، دس ہزار صفحات