خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 109 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 109

خطبات مسرور جلد 12 109 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 فروری 2014ء فرمایا اور بشیر بھی ہے۔اُس کا نام عمو ائیل اور بشیر بھی ہے یا عمانوایل اور بشیر بھی ہے۔”اس کو مقدس روح دی گئی ہے اور وہ جس سے پاک ہے اور وہ نور اللہ ہے۔مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا۔وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔وہ کلمتہ اللہ ہے کیونکہ خدا کی رحمت و غیوری نے اسے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے۔وہ سخت ذہین و فہیم ہوگا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا۔اور وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا ( دوشنبہ ہے مبارک دوشنبہ۔فرزند دلبند گرامی ارجمند مَظْهَرُ الْأَوَّلِ وَالْآخِرِ مَظْهَرُ الْحَقِّ وَالْعُلَاء كَأَنَّ اللهَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاء۔جس کا نزول بہت مبارک اور جلالِ الہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔نور آتا ہے نور جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قو میں اس سے برکت پائیں گی تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا۔وَكَانَ أَمْرًا مَّقْضِيًّا“۔( مجموعہ اشتہارات جلد 1 صفحه 95-96 اشتہار نمبر 33 مطبوعہ ربوہ) پس جیسا کہ میں نے کہا، یہ وہ خصوصیات ہیں جن کا حامل وہ بیٹا ہونا تھا اور ایک دنیا نے دیکھا کہ وہ بیٹا پیدا ہوا اور 52 سال تک خلافت پر متمکن رہنے کے بعد اپنی خصوصیات کا لوہا دنیا سے منوا کر اس دنیا سے رخصت ہوا۔اگر ان خصوصیات کی گہرائی میں جا کر دیکھیں اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احد الصلح الموعود کی زندگی کا جائزہ لیا جائے تو اس کے لئے کئی کتابیں لکھنے کی ضرورت ہے۔کسی خطبہ میں یا کسی تقریر میں حضرت مصلح موعود کی زندگی اور آپ کے کارناموں کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔جماعت میں اس حوالے سے ہر سال 20 فروری کو جلسے منعقد کئے جاتے ہیں اور مقررین اور علماء اپنے اپنے ذوق اور علم کے مطابق اس مضمون کو بیان کرتے ہیں۔میں بھی کئی مرتبہ اس مضمون کو بیان کر چکا ہوں۔حضرت خلیفتہ المسیح الثالث اور حضرت خلیفہ المسیح الرابع بھی بیان کر چکے ہیں۔لیکن ہم نہیں کہہ سکتے کہ حضرت مصلح موعود کی زندگی اور اس پیشگوئی کا مکمل احاطہ ہو گیا یا ہر ایک کو سمجھ آ گئی۔بہر حال آج بھی میں اس پیشگوئی کے حوالے سے اس کے ایک آدھ پہلو کو لے کر حضرت مصلح موعود کی زندگی کی بعض باتیں پیش کروں گا۔اور یہ بھی کہ اپنوں کو اور غیروں کو آپ کے علم و عرفان نے کس طرح متاثر کیا۔اس سے پہلے میں حضرت مصلح موعود کی کتب اور پیکچرز اور تقاریر کا ایک جائزہ بھی پیش کرنا چاہتا