خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 94 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 94

خطبات مسرور جلد 12 94 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 فروری 2014ء اختیار رکھتا ہے کہ کوئی عمدہ فقرہ کسی کتاب کا یا کوئی عمدہ شعر کسی دیوان کا بطور وحی میرے دل پر نازل کرے۔یہ تو زبان عربی کے متعلق بیان ہے۔مگر اس سے زیادہ تر تعجب کی یہ بات ہے کہ بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں بھی ہوتے ہیں جن سے مجھے کچھ بھی واقفیت نہیں جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ جیسا کہ براہین احمدیہ میں کچھ نمونہ ان کا لکھا گیا ہے۔اور مجھے اس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ یہی عادت اللہ میرے ساتھ ہے اور یہ نشانوں کی قسم میں سے ایک نشان ہے جو مجھے دیا گیا ہے جو مختلف پیرایوں میں امور غیبیہ میرے پر ظاہر ہوتے رہتے ہیں اور میرے خدا کو اس کی کچھ بھی پرواہ نہیں کہ کوئی کلمہ جو میرے پر بطور وحی القاء ہو وہ کسی عربی یا انگریزی یا سنسکرت کی کتاب میں درج ہو کیونکہ میرے لئے وہ غیب محض ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں بہت سے توریت کے قصے بیان کر کے ان کو علم غیب میں داخل کیا ہے کیونکہ وہ قصے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے علم غیب تھا گو یہودیوں کے لئے وہ غیب نہ تھا۔پس یہی راز ہے جس کی وجہ سے میں ایک دنیا کو معجزہ عربی بلیغ کی تفسیر نویسی میں بالمقابل بلاتا ہوں۔ورنہ انسان کیا چیز اور ابن آدم کیا حقیقت کہ غرور اور تکبر کی راہ سے ایک دنیا کو اپنے مقابل پر بلاوے۔“ ( نزول امسیح ، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 434 تا 436) آپ کی عربی کتب نے عربوں پر جو اثر کیا اُس کی چند مثالیں اب اس زمانے میں بھی ہیں جو پیش کرتا ہوں۔چند نہیں بلکہ بہت سی مثالیں ہیں اُن میں سے چند ایک پیش کرتا ہوں۔اُس زمانے میں تو آپ کی عربی کے مقابلے پر کوئی نہیں آیا لیکن آج بھی عربوں کا جو اظہار ہے وہ کس طرح کا ہے۔فلسطین کی ہماری ایک خاتون ہیں، وہ کہتی ہیں کہ مروجہ طرز فکر کے زیر اثر میرا بڑا پکا ایمان تھا کہ عیسی علیہ السلام آسمان پر موجود ہیں اور آخری زمانے میں آسمان سے نازل ہوں گے اور اُمت کو دیگر اقوام کی غلامی سے تلوار کے زور پر آزاد کروائیں گے۔نیز تلوار کے زور سے ہی جبر آلوگوں کو اسلام میں داخل کریں گے۔لہذا مجھے بڑی شدت کے ساتھ اس دن کا انتظار تھا۔پھر جماعت سے میرا تعارف ہوا اور یہ تعارف میرے دیور کے ذریعہ ہوا جو نہ صرف جماعت کے بارے میں میرے ساتھ اکثر بات چیت کرتے تھے بلکہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عربی کتب اور لٹریچر بھی بھیجتے رہتے تھے۔اُن کتب میں مجھے بے مثل اور انمول موتی ملے۔ایسے معارف کا مطالعہ میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں کیا تھا۔ایسی بلاغت اور اعجاز سے بھر پور عربی کلام جس میں علم و معرفت کے ہیرے رکھ دیئے گئے ہوں میرے لئے بالکل نیا تھا۔ایسے جواہر پاروں کے مطالعہ سے ہی قاری کا خدا سے تعلق قائم ہونا شروع ہو جاتا ہے اور مکمل اطمینان