خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 398 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 398

خطبات مسرور جلد 12 398 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جون 2014 ء سے پہلے کبھی نہیں ملے تھے لیکن اس کی مدد کی تاکہ وہ اپنا کاروبار شروع کر سکے۔بچوں سے اور دوسروں سے بھی ہمیشہ بڑا حسن سلوک کرتے تھے۔ہر بچے کو جب بھی ملتے ان کو تحفے غبارے اور چاکلیٹ جوان کی جیب میں ہوتے تھے ، دیا کرتے تھے۔بلکہ کسی نے مجھے شکایت کی کہ ان کا سلوک ایسا ہے ( یعنی اچھا نہیں)۔اس پر میں نے انہیں کہا مجھے یقین تو نہیں لیکن ان کو میں نے بھیج دیا ہے۔اس پر انہوں نے کہا میں تو ہمیشہ اپنے پاس سے اپنے اوپر تنگی کر کے بھی لوگوں کا خیال رکھتا ہوں لیکن بہر حال ایسا طبقہ ہوتا ہے جو شکایتیں کرنے پر تلا ہوتا ہے چاہے اس سے اچھا سلوک بھی کیا جائے۔اسی طرح خلافت کے ساتھ تعلق اور وابستگی کے بارے میں یا کوئی کام پوچھے بغیر نہیں کرنا (اس بارہ میں ) ڈاکٹر تاثیر صاحب جو گھانا میں ڈاکٹر ہوتے تھے ، لکھتے ہیں کہ وہاب صاحب کا ایک وصف یہ تھا کہ اطاعت ہمیشہ کرنی ہے۔کہتے ہیں خلافت رابعہ میں ایک بار ایک غیر احمدی ریڈیو گرافر کی طرف سے ایکسرے پلانٹ لگانے کی تجویز ہوئی جس میں بظاہر ہسپتال کو فائدہ اور سہولت دکھائی دے رہی تھی۔کہتے ہیں جب میں نے وہاب صاحب سے پوچھا تو کہنے لگے کہ کوئی بات طے کرنے سے پہلے جب تک خلیفہ وقت سے اجازت نہیں مل جاتی یہ نہیں کرنی۔ان سے اجازت لو پھر آگے بات چلانا۔چنانچہ جب اجازت لی گئی تو اجازت نہیں ملی اور اس طرح بہت سی قباحتوں سے بچ گئے۔محمود ناصر ثاقب صاحب مالی کے امیر جماعت ہیں۔محمود ناصر صاحب پہلے برکینا فاسو میں بھی رہے ہیں۔کہتے ہیں وہاب صاحب وہ مبلغ تھے جو ہم پیچھے آنے والوں کے لئے ایک نیک نمونہ بنے۔کہتے ہیں خاکسار کو ان کے ساتھ متعدد دفعہ ملنے کا موقع ملا۔خاکسار نے سبغ تھینگا گاؤں میں وہ جھونپڑی دیکھی ہے جس میں برکینا فاسو میں وہاب صاحب کا قیام ہوتا تھا۔وہاب صاحب کی کوشش سے 1986ء میں جماعت احمدیہ برکینا فاسو کی رجسٹریشن ہوئی۔اور 2005 ء میں برکینا فاسو کے جلسہ سالانہ میں جب ان کو میں نے نمائندہ بنا کر بھجوایا تو انہوں نے اپنی بہت سی یادیں وہاں تازہ کیں کہ کن حالات میں وہ برکینا فاسو آئے تھے۔جماعت کی کس طرح رجسٹریشن ہوئی۔بہت مشکلات تھیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے دُور ہوئیں۔برکینا فاسو کی جماعت انہی کے ذریعہ سے قائم ہوئی ہے۔ہم بھی دیکھا کرتے تھے کہ یہ جاتے تھے۔پھر خلافت جوبلی کے جلسے پر برکینا فاسو سے سائیکلوں کا قافلہ چلا تو ان کو پیغام بھجوایا کہ میں خود طمبالے آکر ان کا استقبال کروں گا اور باوجود مصروفیت کے یہ دو تین سومیل کا سفر کر کے وہاں گئے اور ان کا