خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 399 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 399

خطبات مسرور جلد 12 399 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جون 2014ء بارڈر پر استقبال کیا۔چند سال پہلے ایک دفعہ افریقہ کے لوگوں کو میں نے کہا تھا کہ یہ مشہور ہے کہ احمدی حج نہیں کرتے اور غیر احمدیوں نے بڑی افوا ہیں پھیلائی ہوئی ہیں اس لئے ہمارے مبلغین کو حج کرنا چاہئے۔اس کے لئے ایک سکیم شروع کی تھی۔تو حافظ مشہور صاحب کہتے ہیں کہ میں نے وہاب صاحب سے کہا کہ مختلف لوگوں کے لئے آپ نام پیش کرتے ہیں آپ خود کیوں نہیں جاتے۔تو انہوں نے فوراً اس کا جواب دیا کہ میں پہلے ہی حاجی ہوں۔کہتے ہیں مجھے اس کی سمجھ نہیں آئی تو میری پریشانی دیکھ کے کہنے لگے کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ ثالث کے زمانے میں میں نے حج پر جانے کا ارادہ کیا لیکن اس وقت غانا کے مذہبی امور کے جو وزیر تھے وہ مسلمان تھے۔انہوں نے بڑی مخالفت کی اور میرا ویز انہیں لگنے دیا۔کچھ عرصے کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثالث سے ان کی ملاقات ہوئی تو حضور نے فرمایا کہ ویزا نہ ملنے کی کیا وجوہات ہیں؟ جب انہوں نے یہ بتایا تو حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کچھ دیر خاموش رہے، ان کو دیکھتے رہے۔اس کے بعد کہتے ہیں کہ مجھے ابھی کشفا اللہ تعالیٰ نے دکھایا ہے کہ تم خانہ کعبہ کا طواف کر رہے ہو اور تمہارے ساتھ ساٹھ ستر ہزار لوگ طواف کر رہے ہیں۔تو کہتے اس لئے میں تو پہلے ہی حاجی ہوں۔already حاجی ہوں اس لئے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔صبران کی ایک بڑی خاصیت تھی۔کہتے ہیں صبر کی حالت دماغ پر نقش ہے کہ جس روز ان کے ایک داماد جو امریکہ میں تھے شہید ہو گئے۔وہاں کسی نے ڈاکہ ڈالا اور ان کو ان کی جگہ پر قتل کر دیا تو کہتے ہیں اس روز جامعہ احمدیہ غانا کی سالانہ تقریب تقسیم انعامات تھی۔پروگرام پر آنے سے قبل امیر صاحب کو یہ اطلاع مل گئی تھی۔ظاہر ہے ایک باپ کی حیثیت سے فکر ہونی چاہئے کہ جوان بیٹی بیوہ ہوگئی ہے اور اس کے تین بچے ہیں۔لیکن تین چار گھنٹے اس فنکشن میں شامل رہے اور چہرے پر بالکل آثار نہیں آنے دیئے کہ یہ واقعہ ہو چکا ہے اور تمام فنکشن بڑی مسکراہٹ سے گزارا اور شام کے وقت جب سب کچھ ختم ہو گیا پھر ہمیں بتایا کہ یہ حادثہ ہو گیا اور میری بیٹی جو ہے وہ آج بیوہ ہوگئی ، جوان داماد جو ہے اس کو اس طرح قتل کر دیا گیا ہے۔ایک دوست قانات بیگ صاحب جو رشین ہیں وہ کہتے ہیں کہ 2008ء میں جلسہ سالا نہ گھانا میں شمولیت کی توفیق ملی۔مجھے امیر صاحب گھانا کی طرف سے ان کی رہائش پر دعوت دی گئی۔اپنے روایتی لباس میں مجھے ملے۔گلے لگایا اور اس انداز میں ملے کہ میری سفر کی پانچ دن کی جو تھکاوٹ تھی بالکل دور ہو