خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 255 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 255

خطبات مسرور جلد 12 255 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 اپریل 2014ء کہا۔مذکر مؤنث کا تو ان کو خیال نہیں رہتا تھا کہ مجھ سے یہ کام نہیں ہوتا۔اس پر حضور نے شفقت سے فرمایا کہ خلیفہ وقت جب فیصلہ کر لیتا ہے اور دعا کر کے فیصلہ کیا ہے تو بدلتا نہیں۔میری دعا ئیں تمہارے ساتھ ہیں۔جب مشکل ہو میرے پاس آجانا۔اور کہتے تھے کہ پھر میں نے خلفاء کی دعاؤں کو ہمیشہ اپنے سر پر ہی دیکھا۔خدام سے براہ راست تعلق تھا۔کہتے تھے کہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے مجھے نصیحت کی تھی کہ دفتر میں کم سے کم بیٹھنا اور خدام سے براہ راست تعلق رکھنا۔محمود صاحب عموماً دفتر میں بیٹھنے کے بجائے شام کو باہر کرسی پر بیٹھ جایا کرتے تھے، خدام الاحمدیہ کا کیونکہ با قاعدہ دفتر ہے اور سارا احاطہ ہی خدام الاحمدیہ کا ہے اس لئے وہاں خدام کا ہی آنا جانا ہوتا تھا تو وہاں بیٹھ جاتے تھے اور ایوان محمود میں آنے جانے والوں سے براہ راست رابطہ رکھتے، حال احوال پوچھتے ، خدام سے بے تکلف ہوتے ، نتیجہ خدام سے یگانگت کا ماحول پیدا ہوجاتا۔ہر ایک کے غم میں برابر کے شریک ہوتے۔ڈاکٹر مبشر صاحب لکھتے ہیں کہ ایک دن ہم دفتر میں بیٹھے کام کر رہے تھے کہ بہت دیر ہو گئی تو محمود صاحب کہنے لگے کہ کچھ کھانے کو ہو تو لاؤ۔کہتے ہیں میں گیسٹ ہاؤس گیا۔جو کھانا دارالضیافت سے معاونین کے لئے آیا تھا وہ ختم ہو چکا تھا۔چند بچے کھچے ٹکڑے تھے۔میں خالی ہاتھ واپس آیا اور بتا یا کہ کچھ نہیں ہے۔صرف چند ٹکڑے ہیں۔اس پر انہوں نے کہا کہ وہ بھی تبرک ہیں وہی لے آؤ۔چنانچہ وہی ٹکڑے انہوں نے کھائے۔کسی منتظم کو یا گیسٹ ہاؤس کے خادم کو نہ کوئی ہدایت دی نہ ہی کچھ باز پرس کی کہ میرے لئے کوئی کھانا وغیرہ کیوں نہیں رکھا۔خصوصاً ایسی حالت میں کہ رات کا وقت ہے ، ان کو شوگر اس وقت ہوگئی ہوئی تھی ، اور شوگر کے مریض کو تو بعض دفعہ بھوک بھی لگ جاتی ہے۔لیکن کوئی اظہار نہیں کیا۔اسی طرح معتمد صاحب کا اور دوسرے کارکنوں کا گھر بھی خدام الاحمدیہ کے احاطے میں تھا مگر انہیں بھی زحمت نہیں دی۔پھر ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ تاریخ خدام الاحمدیہ لکھنے پر انہوں نے ہی مامور کیا اور بہت حوصلہ افزائی کی۔ان کی زبان میں بنگالی لہجہ تھا جو تحریر میں بھی آجاتا تھا۔عموماً اپنے خطوط مجھ سے لکھواتے۔2010ء میں جب وہ جلسہ لندن پر تشریف لائے تو کچھ خطوط اور رپورٹس خاکسار سے لکھوائیں۔ڈاکٹر صاحب بھی یہاں آئے ہوئے تھے۔ان کا جو بنگالی لہجہ تھا اس میں الفاظ کی ادائیگی کی وجہ سے بعض دفعہ سمجھنے میں دشواری ہوتی تو کہتے ہیں کہ مذاق سے کہ بھی دیا کرتا تھا لیکن کبھی انہوں نے مذاق کو برانہیں مانا۔پھر یہ لکھتے ہیں کہ سب سے