خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 172 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 172

خطبات مسرور جلد 12 172 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 مارچ 2014 ء کر اور رو رو کر اس کو یاد دلایا کرتے تھے۔چنانچہ سب سے آخری مولوی لکھو گے والے اسی زمانہ میں اسی گرہن کی نسبت اپنی کتاب احوال الاخرت میں ایک شعر لکھ گئے ہیں جس میں مہدی موعود کا وقت بتایا گیا ہے اور وہ یہ ہے ( پنجابی کا شعر ہے کہ ):۔تیرھویں چند ستیہویں اے سورج گرہن ہوسی اس سالے اندر ماه رمضانے لکھیا یک روایت والے اور پھر دوسرے بزرگ جن کا شعر صد ہا سال سے مشہور چلا آتا ہے یہ لکھتے ہیں:۔درسن 1311 غاشی ہجری دو قرآن خواهد بود از پٹے مہدی و د جبال نشاں خواہد بود یعنی (1311ھ ) چودھویں صدی میں جب چاند اور سورج کا ایک ہی مہینہ میں گرہن ہو گا تب وہ مہدی معہود اور دجال کے ظہور کا ایک نشان ہوگا۔اس شعر میں ٹھیک سن کسوف خسوف درج ہوا ہے“۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 204-205) پھر اللہ تعالی کا آپ کے دعویٰ سے بھی پہلے آپ سے جو سلوک رہا اس بارے میں ایک واقعہ اور اللہ تعالیٰ کے الہام کے ذریعہ تسلی کا ذکر فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔یہ بھی ایک نشان ہے کہ ”جب مجھے یہ خبر دی گئی کہ میرے والد صاحب آفتاب غروب ہونے کے بعد فوت ہو جائیں گے تو بموجب مقتضائے بشریت کے مجھے اس خبر کے سننے سے درد پہنچا اور چونکہ ہماری معاش کے اکثر وجوہ انہیں کی زندگی سے وابستہ تھے اور وہ سرکار انگریزی کی طرف سے پینشن پاتے تھے اور نیز ایک رقم کثیر انعام کی پاتے تھے جو ان کی حیات سے مشروط تھی۔اس لئے یہ خیال گذرا کہ ان کی وفات کے بعد کیا ہو گا اور دل میں خوف پیدا ہوا کہ شاید تنگی اور تکلیف کے دن ہم پر آئیں گے اور یہ سارا خیال بجلی کی چمک کی طرح ایک سیکنڈ سے بھی کم عرصہ میں دل میں گذر گیا تب اسی وقت غنودگی ہو کر یہ دوسرا الہام ہوا۔آلیس الله بكَافٍ عبده۔یعنی کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ہے۔اس الہام الہی کے ساتھ ایسا دل قوی ہو گیا کہ جیسے ایک سخت دردناک زخم کسی مرہم سے ایک دم میں اچھا ہو جاتا ہے۔درحقیقت یہ امر بار ہا آزمایا گیا ہے کہ وحی الہی میں دلی تسلی دینے کے لئے ایک ذاتی خاصیت ہے اور جڑھ اس خاصیت کی وہ یقین ہے جو وحی الہی پر ہو جاتا ہے۔افسوس ان لوگوں کے کیسے الہام ہیں کہ باوجود دعویٰ الہام کے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ ا۔اس جگہ حاشیہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا ہے کہ: ”شعر میں ستائیسویں کا لفظ سہو کا تب ہے یا خودمولوی صاحب سے باعث بشریت سہو ہو گیا ہے ورنہ جس حدیث کا یہ شعر ترجمہ ہے اس میں بجائے ستائیس کے اٹھائیسویں تاریخ ہے۔منہ