خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 171 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 171

خطبات مسرور جلد 12 171 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 مارچ 2014 ء دونوں مرتبہ انہیں تاریخوں میں ہوا ہے جن کی طرف حدیث اشارہ کرتی ہے۔اور چونکہ اس گرہن کے وقت میں مہدی معہود ہونے کا مدعی کوئی زمین پر بجز میرے نہیں تھا اور نہ کسی نے میری طرح اس گرہن کو اپنی مہدویت کا نشان قرار دے کر صد ہا اشتہار اور رسالے اردو اور فارسی اور عربی میں دنیا میں شائع کئے، اس لئے یہ نشان آسمانی میرے لئے متعین ہوا۔دوسری اس پر دلیل یہ ہے کہ بارہ ۱۲ برس پہلے اس نشان کے ظہور سے خدا تعالیٰ نے اس نشان کے بارے میں مجھے خبر دی تھی کہ ایسا نشان ظہور میں آئے گا اور وہ خبر براہین احمدیہ میں درج ہو کر قبل اس کے جو یہ نشان ظاہر ہولاکھوں آدمیوں میں مشتہر ہو چکی تھی۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 202) گواب بعض لوگ چاند گرہن کی دلیلیں پیش کرتے ہیں لیکن اس کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ نے پہلے فرما دیا تھا کہ یہ نشان ظاہر ہوگا۔پھر اس بارے میں مزید وضاحت فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : یہ حدیث ایک غیبی امر پر مشتمل ہے جو تیرہ سو برس کے بعد ظہور میں آ گیا۔جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جس وقت مهدی موعود ظاہر ہو گا اس کے زمانہ میں رمضان کے مہینہ میں چاند گرہن تیرھویں رات کو ہوگا اور اسی مہینہ میں سورج گرہن اٹھائیسویں دن ہوگا اور ایسا واقعہ کسی مدعی کے زمانہ میں بجز مہدی معہود کے زمانہ کے پیش نہیں آئے گا۔اور ظاہر ہے کہ ایسی کھلی کھلی غیب کی بات بتلانا بجز نبی کے اور کسی کا کام نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے لا يُظْهِرُ عَلى غَيْبَةٍ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَطَى مِنْ رسول (الجن : 27-28)۔یعنی خدا اپنے غیب پر بجز برگزیدہ رسولوں کے کسی کو مطلع نہیں فرماتا۔پس جبکہ یہ پیشگوئی اپنے معنوں کے رُو سے کامل طور پر پوری ہو چکی تو اب یہ کچے بہانے ہیں کہ حدیث ضعیف ہے یا امام محمد باقر کا قول ہے۔بات یہ ہے کہ یہ لوگ ہرگز نہیں چاہتے کہ کوئی پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری ہو۔یا کوئی قرآن شریف کی پیشگوئی پوری ہو“۔(اب یہ صداقت کا جو نشان ہے یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے پورے ہونے کا نشان ہے۔فرمایا کہ دنیا ختم ہونے تک پہنچ گئی مگر بقول ان کے اب تک آخری زمانہ کے متعلق کوئی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔اور اس حدیث سے بڑھ کر اور کونسی حدیث صحیح ہوگی جس کے سر پر محدثین کی تنقید کا بھی احسان نہیں بلکہ اس نے اپنی صحت کو آپ ظاہر کر کے دکھلا دیا کہ وہ صحت کے اعلیٰ درجہ پر ہے۔خدا کے نشانوں کو قبول نہ کرنا یہ اور بات ہے ورنہ یہ عظیم الشان نشان ہے جو مجھ سے پہلے ہزاروں علماء اور محدثین اس کے وقوع کے امیدوار تھے اور منبروں پر چڑھ چڑھ