خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 370 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 370

خطبات مسرور جلد 11 370 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 جون 2013ء دفعہ ہم خول والے پھلوں میں بھی دیکھتے ہیں کہ اوپر سے وہ بڑا اچھا نظر آرہا ہوتا ہے لیکن کھولوتو اندر سے جو اس کا مغز ہوتا ہے، وہ یا پوری طرح بنا ہی نہیں ہوتا یا کیڑوں نے اُسے کھالیا ہوتا ہے، یا مثلاً بادام ہے، ایسے بادام بھی ہوتے ہیں جن کو بڑے شوق سے آدمی کھولتا ہے اور اندر سے کڑوے نکلتے ہیں۔پس ہم نے اپنے اعمال سے خدا تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے اس مغز یا پھل کو بچانا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول بھی ہو اور یہ اُس وقت ہو سکتا ہے جب ہماری نمازیں ، ہماری عبادتیں ہمارے اندر خدا تعالیٰ سے تعلق کے علاوہ بنی نوع سے ہمدردی کے جذبات بھی پیدا کریں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت جرمنی ہر سال چار پانچ مساجد بنا رہی ہے اور مجھے ان کے افتتاح کا موقع بھی ملتا ہے اور تقریباً ہر جگہ میں یہی کہتا ہوں کہ اس مسجد کے بننے کے بعد اس مسجد کے علاقے میں رہنے والے احمدیوں کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں۔صرف مسجد بنا کر اُس میں نمازیں پڑھنے کے لئے آ جانا کوئی کمال نہیں ہے، چاہے پانچ نمازوں پر ہی آپ مسجد میں آ رہے ہوں۔اصل چیز یہ ہے کہ اس مسجد سے آپس کے تعلقات میں بھی مضبوطی پیدا ہو اور ان علاقوں کے لوگوں میں بھی اسلام کی خوبصورت تصویر ہر احمدی کے عمل سے ظاہر ہورہی ہو۔اپنوں غیروں ، ہر ایک پر اُس روح کا اثر ہو جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے اپنے ماحول میں پیدا کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس تعلیم اور خواہش کا اظہار ہر احمدی سے ہوجس میں آپ نے فرمایا کہ : "نرم دلی اور باہم محبت اور مواخات میں دوسروں کے لئے ایک نمونہ بن جائیں۔“ (شهادة القرآن روحانی خزائن جلد 6 صفحه 394) پس یہ محبت، پیار اور بھائی چارے کا نمونہ آپس میں ایک دوسرے کے لئے بھی ہے اور غیروں کے لئے بھی ہے۔آپس کے نمونے جہاں اللہ تعالیٰ کے پیار کو جذب کرتے ہوئے، تقویٰ کے معیار کو اونچا کرنے والے ہوں گے، وہاں غیروں کے لئے بھی اسلام کی خوبصورت تعلیم کی طرف توجہ دلانے والے ہوں گے۔اور یوں تبلیغ کے مزید میدان کھلیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی جماعت کے لئے ایک دعا میں فرماتے ہیں کہ : ”خدا تعالیٰ میری اس جماعت کے دلوں کو پاک کرے اور اپنی رحمت کا ہا تھ لمبا کر کے اُن کے دل اپنی طرف پھیر دے اور تمام شرارتیں اور کینے اُن کے دلوں سے اُٹھاوے اور باہمی سچی محبت عطا کرے۔“ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس دعا کا وارث بنائے۔(شہادۃ القرآن ، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 398)