خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 323 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 323

خطبات مسرور جلد 11 323 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 31 مئی 2013 ء تک، اور پھر ریڈیو کینیڈا (CBC فرانسیسی زبان کا ) ہے۔اس کی چار لاکھ سے زیادہ کوریج ہوئی۔بہر حال مجموعی طور پر جیسا کہ میں نے کہا، ساڑھے آٹھ ملین لوگوں تک مسجد کے حوالے سے اسلام کا پیغام پہنچا۔اور اخبارات کے ذریعہ سے بھی پیغامات پہنچے۔گیارہ مختلف اخبارات نے خبریں دیں جس میں تقریباً ساڑھے سات لاکھ لوگوں تک پیغام پہنچا۔ریڈیو کے ذریعہ سے گیارہ لاکھ لوگوں تک، پھر Ethnic میڈیا جو ہے، اس کے بھی ریڈیو سٹیشنز ہیں ان کے ذریعہ سے تقریباً چھ لاکھ لوگوں تک پیغام پہنچا۔تو یہ مختلف ریڈیو چینل تھے۔پھر وہاں سکھ پرانے آباد ہیں۔ان میں ایک سکھ دوست من میت بھلر صاحب سیاستدان ہیں اور وہاں البرٹا صوبہ کے منسٹر ہیں۔وہ مسجد کے افتتاح پر آئے ہوئے تھے۔کہتے تھے کہ میں نے کچھ دنوں تک جنیوا میں ایک تقریر کرنی ہے جو امن کے متعلق تھی۔جس کا متن میں نے پہلے سے تیار کیا ہوا ہے۔جب انہوں نے وہاں میری تقریر سنی تو کہتے ہیں کہ اب یہ متن میں دوبارہ تیار کروں گا اور اُن باتوں کو شامل کروں گا جو آپ نے بیان کی ہیں اور میں ان سے پوری طرح اتفاق کرتا ہوں۔پھر اسی طرح وہاں ایک ریڈیو شیر پنجاب ہے، اُس کے روندر (Ravinder) سنگھ صاحب ہیں، وہ کہتے ہیں کہ اس نقطہ نظر میں میں نے کسی قسم کا کوئی ابہام نہیں پایا۔تقریر میں بہت زیادہ جرأت دیکھنے کو ملی۔پھر ایک Christian Beckter صاحب ہیں، انہوں نے کہا کہ ایک بات جو مجھے بہت پسند آئی کہ وہاں جب میں نے یہ فقرہ بولا تھا کہ جب ہم کسی مسجد کا افتتاح کرتے ہیں تو ہم مذہبی آزادی کے ایک نئے باب کو رقم کر رہے ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ آپ کے خطاب سے ثابت ہو گیا کہ احمدی تشدد پسند نہیں بلکہ امن پسند لوگ ہیں۔احمدی انسانیت کی اقدار پر عمل کرنے والے لوگ ہیں۔پھر سی بی سی کی نمائندہ صحافی نے میرا کہا کہ انہوں نے میرے تمام سوالوں کا تشفی بخش جواب دیا ہے۔جس چیز کی مجھے تلاش تھی وہ مجھے مل گئی اور پھر اُس نے شام کو اپنی خبروں میں بھی اُس کو بیان کیا، خبروں میں دیا۔ہندوستان کے ایک جرنلسٹ ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ سارا خطاب میں من وعن اپنی اخبار میں چھاپوں گا۔اس میں حیرت انگیز پیغام ہے۔ایک بزنس مین کہتے ہیں کہ آج مجھے علم ہوا ہے کہ امن صرف عیسائیت کا ہی حصہ نہیں بلکہ امن تو ہر مذہب کا حصہ ہے۔میں نے جو بات آج سیکھی ہے وہ لازماً اپنے بچوں کو سکھاؤں گا۔