خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 24 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 24

خطبات مسرور جلد 11 24 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جنوری 2013ء ہوں یہ درست ہے یا جو اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ ہے وہ درست ہے؟ اس پر مجھے دکھلایا گیا کہ میں نماز پڑھ رہا ہوں لیکن رُخ قبلہ کی طرف نہیں ہے اور سورج کی روشنی بوجہ کسوف کے بہت کم ہے۔جس سے تفہیم ہوئی کہ تمہاری موجودہ حالت کا نقشہ ہے۔دوسرے روز نماز عشاء کے بعد پھر روروکر بہت دعا کی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خواب میں فرمایا کہ اصل دعا کا وقت جوف اللیل کے بعد کا ہوتا ہے۔( یعنی آدھی رات کے بعد کا ہوتا ہے۔جس طرح بچے کے رونے پر والدہ کے پستان میں دودھ آ جاتا ہے، اسی طرح پچھلی رات گریہ وزاری خدا کے حضور کرنے سے خدا کا رحم قریب آ جاتا ہے۔اس کے بعد بندے نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غلامی اختیار کر لی۔کہتے ہیں اُس کے بعد حضور کی پاک صحبت کی برکت سے یہ فائدہ ہوا کہ ایک روز نماز تہجد کے بعد خاکسار سجدہ میں دعائیں کر رہا تھا کہ غنودگی کی حالت ہوگی جو ایک کشفی رنگ تھا، ایک پاکیزہ شکل فرشتہ میرے پاس آیا جس کے ہاتھ میں ایک خوبصورت سفید کوزہ پانی کا بھرا ہوا تھا اور ایک ہاتھ میں ایک خوبصورت چُھری تھی۔مجھے کہنے لگا کہ تمہاری اندرونی صفائی کے لئے میں آیا ہوں۔اس پر میں نے کہا بہت اچھا۔آپ جس طرح چاہیں صفائی کریں۔چنانچہ اُس نے پہلے چھری سے میرے سینے کو چاک کیا اور اس کوزہ کے مصفی پانی سے خوب صاف کیا لیکن مجھے کوئی تکلیف محسوس نہ ہوئی اور نہ ہی خوف کی حالت پیدا ہوئی۔جب وہ چلے گئے تو میں نے خیال کیا کہ اب میں نے صبح کی نماز ادا کرنی ہے اور یہ تمام بدن چرا ہوا ہے۔نماز کس طرح ادا کر سکوں گا۔اس لئے ہاتھ پاؤں کو ہلانا شروع کیا تو کوئی تکلیف نہ معلوم ہوئی اور حالت بیداری پیدا ہوگئی۔اس کے بعد نماز فجر ادا کی۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ۔جلد نمبر 12 صفحہ 322-323- از روایات حضرت مولوی فضل الہی صاحب) حضرت میاں جان محمد صاحب بیان فرماتے ہیں کہ میں نے خدا کے فضل سے بچپن میں ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت نہیں کی۔باوجود باتیں سننے کے کبھی مخالفت نہیں کی ، کیونکہ جس وقت میری عمر قریباً پندرہ سولہ سال کی تھی کہ میں اپنے والد صاحب مرحوم کے ہمراہ ملتان چھاؤنی آیا تھا۔کیونکہ میرے والد صاحب مرحوم ایک سیٹھ کے پاس منشی مقرر تھے اور میں اُس وقت بیرک مالستر ی میں چار آنے یومیہ پر مزدوری لیتا تھا۔( یعنی کوئی مالستری چھاؤنی ہوگی، شاید بیرکس کا ذکر کر رہے ہیں مزدوری پر کام کرتا تھا )۔اتفاقاً ملتان میں عید رمضان آ گئی۔چنانچہ روزے رمضان شریف کے بھی رکھے اور عیدالفطر پڑھ کر اور سیر وغیرہ کر کے عصر کے بعد مجھے نیند آ گئی اور میں چار پائی پر سو گیا۔چونکہ گرمی کے دن تھے۔میں عصر کا سویا ہوا صبح تک سویا رہا۔چنانچہ سحری کے وقت مجھے خواب آیا۔وہ خواب یہ ہے کہ میں عید کے دن اپنے