خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 247 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 247

خطبات مسرور جلد 11 247 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 اپریل 2013ء تا جن حالات و مشکلات سے یہ گزررہے ہیں اُن سے نجات پائیں۔آفات کے جو جھٹکے ان کو خدا تعالیٰ لگا رہا ہے اُس کے اشاروں کو سمجھیں اور تکذیب اور ظلموں سے باز آئیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی توفیق عطا فرمائے کہ تقویٰ پر چلیں اور اپنے قول و فعل کو خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں اور دنیا کو ہر وقت تباہی سے ہوشیار کرتے رہیں۔ہوں گے۔اس وقت میں دو وفات یافتگان کا ذکر بھی کروں گا اور جمعہ کی نماز کے بعد ان کے جنازے بھی پہلا مکرم چوہدری محفوظ الرحمن صاحب کا ہے جو 6 را پریل 2013ء کو 93 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ چوہدری صاحب نے ایف اے پاس کر کے حضرت خلیفہ مسیح الثانی کی تحریک پر اپنی زندگی وقف کی تھی، زندگی وقف کرنے کے بعد بطور انسپکٹر بیت المال قادیان میں کام کرتے رہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ جب صدر خدام الاحمدیہ تھے ، آپ پر بہت اعتماد کرتے تھے۔آپ کو چار خدام کے گروپ میں جلسہ دہلی کے دوران خواتین کے پنڈال کی حفاظت کا موقع بھی ملا۔جماعت کی تاریخ میں یہ مشہور واقعہ ہے اس موقع پر پتھراؤ بھی ہوا تھا جس میں ایک کارکن کرم مشتاق باجوہ صاحب زخمی بھی ہو گئے تھے جوسوئٹزرلینڈ میں ہمارے مشنری اور مبلغ رہے ہیں۔تقسیم ہند کے موقع پر حضرت خلیفہ مسیح الثالث کے ساتھ آخر وقت تک قادیان کی حفاظت کے لئے ٹھہرے رہے اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ان کو صرف چار دن پہلے واپس پاکستان بھجوایا تھا۔پھر آ ٹی آئی کالج لاہور میں بطورا کا ؤنٹنٹ اور ہوٹل ٹیوٹر کام کرتے رہے۔پھر ٹی آئی کالج ربوہ میں بطور DPE اور انچارج لائبریری کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ عرصہ خلافت لائبریری میں بھی کام کیا۔نصرت جہاں اکیڈمی میں انہوں نے بطور استاد کام کیا۔بعد میں پھر سروس کے دوران ہی بی اے بھی کیا۔اُس کے بعد ایم اے اسلامیات بھی کیا۔کوالیفائیڈ DPE بھی تھے۔1953ء کے فسادات میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے کوئٹہ میں قیام کے دوران صدر خدام الاحمدیہ کی طرف سے جن خدام کو حفاظت کے لئے بھجوایا گیا اُن میں سے ایک چوہدری صاحب بھی تھے۔اور جب ربوہ کی آبادی ہوئی ہے تو جماعت کی طرف سے جو پہلے انیس افراد بھجوائے گئے تھے، اس پہلے گروپ میں آپ شامل تھے۔خدام الاحمدیہ میں صحت جسمانی کے مہتم بھی رہے ہیں۔والی بال اور ٹینس اور فٹ بال کے بڑے اچھے کھلاڑی تھے۔چندہ جات میں با قاعدہ تھے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی بھی تھے اور اپنا سب حساب