خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 379 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 379

خطبات مسرور جلد 11 379 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 5 جولائی 2013ء محبت، عزت افزائی اور سب کے لئے امن ہے۔کہتی ہیں جلسہ نے ہمیں بدل کے رکھ دیا ہے اور ہم نے اپنے اندر بہت تبدیلی محسوس کی ہے۔گویا صرف احمدیوں پر اثر نہیں ہوتا، عیسائیوں پر بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت اثر ہوتا ہے۔میسی ڈونیا کے ایک ڈاکٹر اور ہام (Orham) صاحب ہیں۔جلسہ پر وفد کے ساتھ آئے۔کہتے ہیں کہ میں ڈاکٹر ہوں۔بلقان اور مقدونیہ میں گزشتہ لڑی جانے والی تین جنگوں کے زخمیوں کی خدمت کی توفیق ملی ہے۔قومیت کے فرق کے بغیر میں نے لوگوں کی خدمت کی ہے۔اس جلسہ میں میں نے دیکھا کہ مختلف قوموں کے افراد میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں تھا۔یہاں میں نے خلیفہ وقت کی تقریریں سنیں تو مجھے یقین ہو گیا کہ مجھے اپنی اصل جگہ مل گئی ہے اور یہ کہ اب مجھے اس تبدیلی سے گزرنا ہوگا اور انہوں نے بیعت کا فیصلہ کر لیا۔چنانچہ جلسہ کے آخری دنوں میں انہوں نے بیعت کی۔کہتے ہیں میں حج پر بھی گیا تھا، وہاں میں نے دیکھا کہ مسلمان کیا ہوتے ہیں۔وہاں تو میں نے اسلام کے خلاف سیاست ہی دیکھی ہے۔یعنی مسلمان کے قول اور فعل میں بڑا تضاد تھا اور سیاست زیادہ تھی۔کہتے ہیں اُن کے ساتھ دل مطمئن نہیں ہو سکتا تھا۔اور جماعت جو ریفارم پیش کرتی ہے یہ بہت اچھا ہے۔جماعت کسی کو اسلام سے نہیں نکالتی بلکہ اسلام میں اُسے مضبوط کرتی ہے۔اور کہتے ہیں اب میں نے احمدیت قبول کر لی ہے اور میرے لئے یہی صراط مستقیم ہے۔کہتے ہیں کہ حیرت انگیز بات ہے، اتنا بڑا مجمع اور کوئی پولیس والا نہیں۔یہ دیکھ کر بھی حیرت ہوئی۔اس کا مطلب ہے کہ حکومت کو بھی تسلی ہے کہ یہاں کوئی جھگڑا نہیں ہوگا۔پھر کہتے ہیں خلیفہ وقت نے جو بعض امور پیش کئے وہ کسی مولوی سے کبھی نہیں سنے۔یہ سب کچھ اتنا واضح تھا کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں اب آپ کے ساتھ ہوں جس میں ایک خلیفہ موجود ہے۔جب مجھے علم ہوا کہ ایک خلیفہ موجود ہیں تو میں سمجھا کہ مجھے راستہ مل گیا ہے کیونکہ ہمیں خلیفہ اور رہنمائی کی ضرورت ہے۔پھر میسی ڈونیا کے ایک نوجوان بائیرم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وہ نئے احمدی ہیں اور اس سے پہلے مسلمان تھے بلکہ ایک ایسے کر مسلمان خاندان سے تھے جو مولوی طبع ہوتے ہیں۔کہتے ہیں میرے دادا غیر احمدی مولوی ہیں اور اُن کی طرف سے قبولیت احمدیت پر بہت مخالفت کی گئی۔مخالفت کی وجہ سے چھ مہینے کے لئے گھر سے ان کو نکلنا پڑا لیکن یہ ثابت قدم رہے۔بعد میں ان کی بیوی نے بھی بیعت کر لی اور یہاں جلسہ پر آئے ہوئے تھے۔انہوں نے ایک نظم پڑھنے کی بھی اجازت چاہی جو میسی ڈونیا کے لوگوں نے ہی لکھی تھی۔تو میں نے کہا ہاں آپ پڑھیں۔یہ نظم انہوں نے اور اُن کے ساتھ کچھ اور بچوں نے ایسے