خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 255
خطبات مسرور جلد 11 255 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 اپریل 2013ء مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ہماری سوچ یہ ہونی چاہئے کہ حق بات پر قائم رہنے کے لئے ، انصاف پر قائم رہنے کے لئے ہمیں اپنے ماحول اور اپنے عزیزوں ، بزرگوں کی ناراضگی بھی مول لینی پڑے تو ہم لے لیں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہاری امارت یا غربت تمہارے فائدے یا نقصان اور تمہاری چالا کیوں یا جھوٹی گواہیوں یا انصاف سے دور جانے سے نہیں ہے بلکہ یہ فائدے نقصان اللہ تعالیٰ کے فضلوں پر منحصر ہیں۔اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو تمہیں فائدہ دے۔نہیں تو تمہاری کوشش بھی ہو تو تم فائدہ حاصل نہیں کر سکتے۔جھوٹی گواہیاں تمہیں فائدہ نہیں پہنچا سکتیں۔ہاں ایک عارضی دنیاوی فائدہ تو ہوسکتا ہے لیکن اُس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی وجہ سے اُس کے نقصان اتنے زیادہ ہوں گے جو برداشت سے باہر ہوں گے۔فرمایا کہ اس لئے اللہ تعالیٰ کو دوست بناؤ اور اُسی کا قرب حاصل کرو۔اور ہمیشہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے صاف اور سیدھی بات کرو۔اپنے عائلی معاملات میں ، گھریلو معاملات میں بھی، معاشرتی معاملات میں بھی ، دنیاوی معاملات میں بھی سچائی کو ہمیشہ پکڑے رکھو۔انصاف کے قیام کی ہمیشہ کوشش کرو۔اپنی خواہشات کی پیروی کر کے عدل اور انصاف سے دور جانے کی بجائے ، گھماؤ پھراؤ والی باتیں کر کے معاملے کو الجھانے کی بجائے یا سچی گواہی کو چھپانے کی بجائے اور اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے کی بجائے ایک مومن کو ہمیشہ خدا تعالیٰ کی رضا کو اپنا محور بنانا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں ایک واقعہ آتا ہے جہاں آپ کو گواہی دینی پڑی۔زمینداری کا معاملہ تھا اور جو مزار مین تھے اُن کے ساتھ درختوں کا جھگڑا تھا۔وہ جانتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیشہ سچائی پر قائم رہتے ہوئے گواہی دیں گے حالانکہ آپ کے والد کا اور آپ کے خاندان کی جائیداد کا معاملہ تھا، زمین کا معاملہ تھا، کوئی درختوں کی ملکیت کا معاملہ تھا۔جب گواہی دی گئی ، آپ کو بلایا گیا تو آپ نے حج کے سامنے یہی کہا کہ میرے نزدیک ان لوگوں کا ہی حق بنتا ہے اور ان کو ان کا یہ حق ملنا چاہئے۔اس کی وجہ سے آپ کے خاندان والے، آپ کے والد ناراض بھی ہوئے لیکن آپ نے کہا جو میں نے حق سمجھا، جو سچی چیز بھی وہ میں نے گواہی دے دی۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد اول ص 72-73، ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ ( غیر مطبوعہ ) جلد نمبر 9صفحه 192 تا 194 روایت حضرت میاں اللہ یا ر صاحب ٹھیکیدار) تو یہ معیار ہیں جو زمانے کے امام نے ہمارے سامنے پیش کئے۔اور یہ معیار ہیں جو ہمیں اب قائم کرنے چاہئیں اور یہی معیار ہیں جن کو حاصل کرنے کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں