خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 254 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 254

خطبات مسرور جلد 11 254 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 اپریل 2013ء کھو کھلے ہوں گے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو جو ہمارے متعلق فکر تھی کہ کہیں بدنام کرنے والے نہ بن جائیں، اُس فکر کو بڑھانے والے ہوں گے۔پس ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ آپ علیہ السلام کی اس فکر کو کم سے کم کرنے والے ہوں بلکہ ختم کرنے والے ہوں۔پہلی بات جس کا یہاں حکم دیا گیا ہے یہ ہے کہ ہمارے ہر معاملے میں گواہی خدا تعالیٰ کی خاطر ہونی چاہئے۔خدا تعالیٰ کے احکامات کے مطابق ہونی چاہئے۔ہمارے دل و دماغ میں یہ خیال نہ آئے کہ اس گواہی سے یا کوئی بھی گواہی جو میں نے دینی ہے اُس سے کوئی ذاتی مفاد حاصل کرنا ہے۔بلکہ صرف اور صرف یہ خیال ہو کہ میں نے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی ہے اور صرف اور صرف خدا تعالیٰ کو خوش کرنا ہے۔پھر فرمایا کہ اس کا حصول انصاف کے اعلیٰ معیار قائم کرنے سے ہے۔اور انصاف کے اعلیٰ معیار سچائی پر قائم ہوئے بغیر ہو ہی نہیں سکتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم پر عمل کئے بغیر یہ ہو ہی نہیں سکتے کہ جو اپنے لئے پسند کرتے ہو وہ دوسرے کے لئے پسند کرو۔اپنے لئے تو ہماری کوشش ہو کہ ہمارا حق ہمیں ملے۔کہیں ذراسی بھی ہماری حق تلفی ہو رہی ہو تو ہم چیخنے چلانے لگ جاتے ہیں لیکن دوسرے کے حق کا معاملہ آئے تو کئی قسم کے عذر تلاش کرنے لگ جاتے ہیں۔اگر انصاف کا معاملہ آئے تو اپنے لئے تو ہم انصاف کے بارے میں تمام قرآنی احکامات فیصلہ کرنے والے کے سامنے رکھ دیں گے۔بڑی محنت سے احادیث تلاش کر کے ان کے حوالے سے حق تلفی کرنے والے اور فیصلہ کرنے والے کو خوف خدا دلاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباسات پیش کرتے ہیں۔لیکن جب خود ہم سے انصاف پر قائم ہوتے ہوئے سچی گواہی کا مطالبہ ہو تو سچی گواہی دینے کی بجائے حق بات کہنے کی بجائے ، پیچدار اور الجھی ہوئی باتیں کر کے معاملے کو بگاڑنے کی یا اپنے حق میں کرنے کی یا اپنے قریبیوں کے حق میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔تو یہ چیز ایک مومن ، حقیقی مومن میں نہیں ہونی چاہئے۔پس حقیقی مومن کو حکم ہے کہ خدا کی رضا کو مقدم کرو اور باقی سب باتیں اُس کے تابع کرو۔اور یہ اُس وقت ہوگا جب اتنی جرات پیدا ہو جائے کہ اپنے خلاف بھی گواہی دینے سے انسان گریز نہ کرے۔اس کی کچھ بھی پرواہ نہ ہو کہ حق بات بتانے کی وجہ سے سچی گواہی کی وجہ سے میں خود کتنی مشکلات میں گرفتار ہو سکتا ہوں۔یا میرے عزیز رشتہ دار، میرے بچے، اگر میں اُن کے خلاف گواہی دوں تو کس مشکل میں گرفتار ہو سکتے ہیں یا میرے اپنے والدین یا بچوں یا عزیزوں، دوستوں کے خلاف گواہی سے مجھے کن