خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 172 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 172

خطبات مسرور جلد 11 172 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 مارچ 2013ء میں قبول کروں گا تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم مایوس ہوں۔ہاں قبولیت کا وقت خدا تعالیٰ نے رکھا ہے۔ہرا بتلا ہمیں خدا تعالیٰ کی طرف جھکنے والا بنائے گا تو انشاء اللہ تعالیٰ قبولیت بھی ہم دیکھیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اور ارشاد بھی پیش کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ : یا درکھو کوئی آدمی کبھی دعا سے فیض نہیں اُٹھا سکتا جب تک وہ صبر میں حد نہ کر دے اور استقلال کے ساتھ دعاؤں میں نہ لگا رہے۔اللہ تعالیٰ پر کبھی بدظنی اور بدگمانی نہ کرے۔اُس کو تمام قدرتوں اور ارادوں کا مالک تصور کرے۔یقین کرے پھر صبر کے ساتھ دعاؤں میں لگا رہے۔وہ وقت آ جائے گا کہ اللہ تعالیٰ اُس کی دعاؤں کو سن لے گا اور اُسے جواب دے گا۔جولوگ اس نسخہ کو استعمال کرتے ہیں وہ کبھی بدنصیب اور محروم نہیں ہو سکتے بلکہ یقیناً وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی قدرتیں اور طاقتیں بے شمار ہیں۔اس نے انسانی تکمیل کے لئے دیر تک صبر کا قانون رکھا ہے۔پس اُس کو وہ بدلتا نہیں اور جو چاہتا ہے کہ وہ اُس قانون کو اُس کے لئے بدل دے وہ گو یا اللہ تعالیٰ کی جناب میں گستاخی اور بے ادبی کی جرات کرتا ہے۔پھر یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ بعض لوگ بے صبری سے کام لیتے ہیں اور مداری کی طرح چاہتے ہیں کہ ایک دم میں سب کام ہو جائیں۔میں کہتا ہوں کہ اگر کوئی بے صبری کرے تو بھلا بے صبری سے خدا تعالیٰ کا کیا بگاڑے گا اپنا ہی نقصان کرے گا۔بے صبری کر کے دیکھ لے وہ کہاں جائے گا۔فرمایا ”دیکھو حضرت یعقوب علیہ السلام کا پیارا بیٹا یوسف علیہ السلام جب بھائیوں کی شرارت سے اُن سے الگ ہو گیا تو آپ چالیس برس تک اُس کے لئے دعائیں کرتے رہے۔اگر وہ جلد باز ہوتے تو کوئی نتیجہ پیدانہ ہوتا۔چالیس برس تک دعاؤں میں لگے رہے۔اور اللہ تعالیٰ کی قدرتوں پر ایمان رکھا۔آخر چالیس برس کے بعد وہ دعائیں کھینچ کر یوسف کو لے ہی آئیں۔اسی عرصہ دراز میں بعض ملامت کرنے والوں نے یہ بھی کہا کہ تو یوسف کو بے فائدہ یاد کرتا ہے مگر انہوں نے یہی کہا کہ میں خدا سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔بیشک اُن کو کچھ خبر نہ تھی مگر یہ کہا۔انى لاَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ (یوسف: 95) پہلے تو اتنا ہی معلوم تھا کہ دعاؤں کا سلسلہ لمبا ہو گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اگر دعاؤں سے محروم رکھنا ہوتا تو وہ جلد جواب دے دیتا۔مگر اس سلسلہ کا لمبا ہونا قبولیت کی دلیل ہے۔کیونکہ کریم سائل کو دیر تک بٹھا کر کبھی محروم نہیں کرتا۔بلکہ بخیل سے بخیل بھی ایسا نہیں کرتا۔وہ بھی سائل کو اگر زیادہ دیر تک دروازہ پر بٹھائے تو آخر اُس کو کچھ نہ کچھ دے ہی دیتا ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 151 - 152 ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ ) اور پھر ہماری دعائیں تو ہمارے دل کی تڑپ، ہمارے دلوں کا چھلنی ہونا اپنی ذات پر ظلم کی وجہ