خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 80
خطبات مسرور جلد 11 80 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم فروری 2013ء ہانی طاہر صاحب ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ مرحوم اور مکرم مصطفی ثابت صاحب مرحوم محبت ، طہارت ، سعادت مندی، بیماری پر صبر اور شکوہ شکایت نہ کرنے میں اور انکساری میں ایک جیسے تھے۔معجزہ یہ ہے کہ دونوں کی بیماری ایسی تھی جس میں انسان زیادہ زندہ نہیں رہتا اور کوئی کام نہیں کرسکتا لیکن ان دونوں نے لمبا عرصہ بیماری کا مقابلہ کیا اور بہت کام کیا۔اور یہ بات بالکل ٹھیک ہے۔مرحوم علاء صاحب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اور میرے خطبات جمعہ جو تھے ، اُن کے ترجمہ کی پروف ریڈنگ اور چیکنگ کا کام کرتے تھے اور شدید بیماری اور کمزوری کے باوجود بڑی مستعدی سے یہ کام کرتے تھے۔ان کی طرف سے جو آخری خط موصول ہوا ، وہ جامعہ احمدیہ یو کے میں میرا طلباء جامعہ کو جو خطاب تھا اُس کے ترجمہ کی چیکنگ کے متعلق تھا۔اور وہ بڑا اس پر شکر ادا کیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اس کی توفیق دے رہا ہے۔طاہر ندیم صاحب لکھتے ہیں کہ علاء نجمی صاحب کی ایک خاص صفت یہ تھی کہ انہیں نیکی کرنے کی بہت جلدی تھی۔انہیں معلوم ہو گیا تھا کہ زندگی کے دن تھوڑے ہیں، اس لئے باقی دنوں کو وہ زیادہ سے زیادہ اعمالِ صالحہ سے بھر دینا چاہتے تھے۔ہر خطبہ کا ترجمہ انہیں بھجوایا جاتا تھا لیکن اگر کسی وجہ سے ان کو خطبہ نہ پہنچتا تو ان کی طرف سے شکوہ کا ای میل آجاتا کہ اس دفعہ آپ نے مجھے خطبہ کیوں نہیں بھیجا؟ با وجود بینائی پر بیماری کا اثر ہونے کے وہ یہ کام تندہی سے انجام دیتے رہے۔کئی دفعہ عربک ڈیسک کو ای میل کر کے کہتے کہ میری طبیعت بہت خراب ہے اس لئے اگر کوئی جماعتی کام ہے تو ارسال کریں۔یعنی طبیعت کی خرابی کو ٹھیک کرنے کے لئے جماعتی کام بھی ایک دوائی ہے۔اور بعض دفعہ یہ بھی ذکر کرتے کہ بیماری کا میں صرف دعا کے لئے لکھتا ہوں۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اب مجھے کام بھیجنا بند کر دیں۔مومن طاہر صاحب کہتے ہیں کہ مرحوم کے ساتھ خاکسار کا گہرے پیار کا تعلق تھا۔رضا بالقضاء، بے انتہا تو کل، خلافت سے شدید محبت اور وفا۔نظام جماعت کی اطاعت ، عربک ڈیسک کی علمی کاموں میں انتھک مدد اور مہمان نوازی ان کے نمایاں اوصاف تھے۔انہوں نے اپنے بچوں کو جماعت اور خلافت سے شدید پیار سکھایا۔انہیں اردو سکھانے کی کوشش کی۔ان کی بڑی بیٹی نے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اردو نظمیں یاد کی ہوئی ہیں۔ہر جلسہ پر آنے کی کوشش کرتے اور باوجود کینسر جیسی موذی بیماری کے دوسرے مہمانوں کے ساتھ زمین پر سوتے۔وہ خلافت کے ایسے مددگاروں میں سے تھے جو نہایت خاموشی اور عاجزی سے اور زندگی کی آخری رمق تک انتھک کام کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اُن کے درجات بلند فرماتا چلا جائے۔