خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 590
خطبات مسرور جلد 11 590 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 اکتوبر 2013ء کے لئے قائم کی گئی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ”انسان کی تمام روحانی خوبصورتی تقویٰ کی تمام باریک راہوں پر قدم مارنا ہے۔تقویٰ کی باریک راہیں روحانی خوبصورتی کے لطیف نقوش اور خوشنما خط و خال ہیں۔اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی امانتوں اور ایمانی عہدوں کی حتی الوسع رعایت کرنا اور سر سے پیر تک جتنے قوی اور اعضاء ہیں، جن میں ظاہری طور پر آنکھیں اور کان اور ہاتھ اور پیر اور دوسرے اعضاء ہیں اور باطنی طور پر دل اور دوسری قوتیں اور اخلاق ہیں، اُن کو جہاں تک طاقت ہو ، ٹھیک ٹھیک محل ضرورت پر استعمال کرنا اور ناجائز مواضع سے روکنا اور اُن کے پوشیدہ حملوں سے متنبہ رہنا۔اور اس سے ہوشیار رہنا۔ان اعضاء کے پوشیدہ حملے کیا ہوں گے؟ ان کے پوشیدہ حملے یہ ہیں کہ شیطان ان کے غلط استعمال کی طرف ورغلاتا ہے۔فرمایا: ” اور اسی کے مقابل پر حقوق العباد کا بھی لحاظ رکھنا یہ وہ طریق ہے انسان کی تمام روحانی خوبصورتی اس سے وابستہ ہے اور خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں تقویٰ کو لباس کے نام سے موسوم کیا ہے۔چنانچہ لِبَاسُ التَّقویٰ قرآن شریف کا لفظ ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ روحانی خوبصورتی اور روحانی زینت تقویٰ سے ہی پیدا ہوتی ہے۔اور تقویٰ یہ ہے کہ انسان خدا کی تمام امانتوں اور ایمانی عہد اور ایسا ہی مخلوق کی تمام امانتوں اور عہد کی حتی الوسع رعایت رکھے۔یعنی اُن کے دقیق در دقیق پہلوؤں پر تا بمقدورکار بند ہو جائے۔“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 213) یعنی کہ باریک سے باریک پہلو جو ہیں اُن کے متعلق بھی حتی الوسع کوشش کرے کہ اُن پر کار بند رہنا ہے، اُن پر عمل کرنا ہے۔پس جیسا کہ میں نے کہا کہ اس اقتباس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مزید وضاحت فرما دی ہے کہ پہلے اپنی امانتوں کا خیال رکھنا ہے اور اپنے عہدوں کا خیال رکھنا ہے۔ایک احمدی کے سپر دوہ امانت ہے جو ادا کرنے کا خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر اُس نے عہد کیا ہے اور وہ ہے دین کو دنیا پر مقدم کرنا۔اگر اس امانت کی حفاظت اور اس کی ادائیگی ہم کرتے رہیں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ ہماری عبادتیں ہمیں اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والی بنتی رہیں گی۔دعاؤں کی قبولیت کے نشان ہم دیکھنے والے ہوں گے، انشاء اللہ۔ہمارا ہر عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی تلاش میں اُٹھنے والا ہوگا۔ہمارا مسجد میں آنا خالصة لله ہو گا۔مسجد کی تعمیر کے بعد اب جو لوگوں کی اس طرف توجہ ہوگی ، اس کا حق ادا کرنے کے لئے بھی ہم ہوں گے۔