خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 553
خطبات مسرور جلد 11 553 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 اکتوبر 2013ء قریب کرنا ہے یعنی خدا تعالیٰ سے زندہ تعلق پیدا کرنا ہے۔یقیناً ہمارے ایمان اور اعمال کی کمی سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوی کی نفی نہیں ہوتی۔ہاں ہم اُس فیض سے حصہ لینے والے نہیں ہیں جو آپ کی بعثت سے جاری ہوا ہے۔ہمارے ایمان لانے کے دعوے بھی صرف زبانی دعوے ہیں۔پس بجائے اس کے کہ ہر ایک دوسرے پر نظر رکھے کہ وہ کیا کر رہا ہے ، اُس کا ایمان کیسا ہے، اُس کا عمل کیسا ہے اور اُس میں کیا کمزوری ہے، ہر احمدی کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ وہ کیا کر رہا ہے اور کس حد تک اپنے عہد بیعت کو پورا کر رہا ہے۔کس حد تک آپ علیہ السلام کے مقصد کو پورا کر رہا ہے۔کس حد تک اعمال صالحہ بجالانے کی کوشش کر رہا ہے۔کس حد تک اپنی اخلاقی حالت کو درست کر رہا ہے۔کس حد تک اپنے اس عہد کو پورا کر رہا ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے سامنے دس شرائط بیعت رکھی ہیں کہ اگر تم حقیقی طور پر میری جماعت میں شامل ہونا چاہتے ہو یا شامل ہونے والے کہلانا چاہتے ہو تو مجھ سے پختہ تعلق رکھنا ہوگا۔اور یہ اُس وقت ہو گا جب ان شرائط بیعت پر پورا اترو گے۔ان کی جگالی کرتے رہوتا کہ تمہارے ایمان بھی قوی ہوں اور تمہاری اخلاقی حالتیں بھی ترقی کرنے والی ہوں ، ترقی کی طرف قدم بڑھانے والی ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں مختلف مواقع پر بڑی شدت اور درد سے نصیحت فرمائی ہے کہ تم جو میری طرف منسوب ہوتے ہو، میری بیعت میں آنے کا اعلان کرتے ہو اگر احمدی کہلانے کے بعد تمہارے اندر نمایاں تبدیلیاں پیدا نہیں ہوتیں تو تم میں اور غیر میں کوئی فرق نہیں ہے۔وو پس ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہماری نیکیوں کے معیار اس سطح تک بلند ہوں جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیں دیکھنا چاہتے ہیں۔بعض نصائح جو بیعت کرنے والوں کو آپ علیہ السلام نے مختلف اوقات میں فرما ئیں، اُن کا میں اس خطبہ میں ذکر کروں گا۔آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : بیعت رسمی فائدہ نہیں دیتی۔ایسی بیعت سے حصہ دار ہونا مشکل ہوتا ہے۔یعنی اگر صرف رسمی بیعت ہے تو انسان اس بیعت سے اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے حصہ دار نہیں بن سکتا ، نہ انعامات کا وارث بنتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیعت کرنے والے کے حق میں مقرر فرمائے ہیں۔فرمایا کہ اسی وقت حصہ دار ہو گا جب اپنے وجود کو ترک کر کے بالکل محبت اور اخلاص کے ساتھ اس کے ساتھ ہو جاوے۔“ یعنی جس کی بیعت کی ہے اُس کے ساتھ ہو جائے ، خدا تعالیٰ کے ساتھ پختہ تعلق پیدا کر لے۔پھر فرمایا: ” تعلقات کو بڑھانا بڑا ضروری امر ہے۔اگر ان تعلقات کو وہ ( طالب) نہیں بڑھاتا اور کوشش نہیں کرتا ، یعنی جس نے