خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 27 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 27

خطبات مسرور جلد 11 27 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جنوری 2013ء حضرت امیر خان صاحب فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے خواب میں شیخ حامد علی صاحب خادم مہمان خانہ کو جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے خادم تھے دیکھا کہ آپ عرب کی سوکھی ہوئی کھجوریں مہمانوں میں تقسیم کرنے کے لئے ایک مجمع میں رکھ کر کھڑے ہیں جو سفید کپڑوں سے ڈھانپی ہوئی ہیں۔اور جب آپ تقسیم کرنے لگے تو کھجور میں گلگلے کے برابر موٹی ، خوش رنگ تر و تازہ، رس بھری ہیں جن کو آپ تقسیم کئے جاتے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ یہ عرب کی سوکھی ہوئی کھجوریں ہیں جو تر و تازہ کر کے آپ لوگوں کو دی جاتی ہیں۔یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے احیائے نو کیا ہے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ۔جلد نمبر 6 صفحہ 130 - از روایات حضرت امیر خان صاحب) حضرت امیر خان صاحب فرماتے ہیں کہ 19 جنوری 1911 کو میں نے خواب میں ایک سکھ لڑکے کو دیکھا جس کو جن چمٹا ہوا تھا ، جس کو لوگ منتروں کے ذریعہ نکال رہے تھے۔(جن کو نکالنے کے لئے جس طرح جنتر منتر کرتے ہیں ) اور جلتی ہوئی آگ اس کے نزدیک کر کے اس جن کو ڈرا ر ہے تھے کہ وہ اس ڈر سے نکل جائے۔مگر وہ نہیں لکھتا تھا۔اس پر خواب کے اندر مجھے اس کا علاج سمجھایا گیا کہ ایک سفید کاغذ لے کر اس پر جن کی شکل بناؤ اور قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الناس پڑھ کر قلم کے ذریعہ جن کی شکل پر لکیریں کھینچ کر جن کی شکل کو کاٹ دو۔اس لئے بار بار قُل اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ پڑھ کر شکل قلم زن کرنے سے جن ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔چنانچہ میں نے خواب کے اندر اس طریق سے عمل کیا جس سے جن ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور لڑ کا تندرست ہو گیا۔جس کا نام عطاء اللہ رکھا گیا۔جب میں خواب سے بیدار ہوا تو حضرت اقدس کا یہ شعر زبان پر جاری تھا۔کلام پاک یزداں کا کوئی ثانی نہیں ہرگز اگر گوگوئے عماں ہے وگر لعل بدخشاں ہے (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ۔جلد نمبر 6 صفحہ 141-142۔از روایات حضرت امیر خان صاحب) تو یہ چند روایتیں تھیں جو میں نے سنائیں۔اللہ تعالیٰ ان بزرگوں کے درجات بلند فرمائے اور ایمان کی پختگی ان کی نسلوں میں بھی قائم رہے۔اس وقت نمازوں کے بعد میں دو جنازے غائب پڑھاؤں گا۔پہلا جنازہ مکرم عبدالمجید ڈوگر صاحب کا ہے۔یہ ربوہ میں لمبا عرصہ رہے ہیں۔میرا خیال ہے زندگی تقریباً وہیں گزاری۔یا شاید کاروباری معاملات میں باہر جاتے ہوں۔لیکن فی الحال کچھ سالوں سے وہ سویڈن میں تھے۔ان کی