خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 22
خطبات مسرور جلد 11 22 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 جنوری 2013ء ساتھ ہی اندر جا پڑا ہوں مگر گرا نہیں۔پھر میں دیکھتا ہوں کہ وہاں پر پارک ہی پارک ہیں۔( بہت بڑے بڑے پارک ہیں ) جہاں پر روشیں ہیں ، پھولوں کے پودے لگے ہوئے ہیں۔اُن میں سے گزرتے ہوئے میں ایسا خیال کرتا ہوں کہ گاڑی لاہور جانے کے لئے تیار ہے، مگر میرے پاس ٹکٹ نہیں ہے۔(خواب بیان کر رہے ہیں )۔اس اثناء میں ایک شخص جو سانولے رنگ کا ہے اور مجھے وہ ڈرائیور معلوم ہوتا ہے مجھے کہتا ہے کہ کچھ حرج نہیں اگر تمہارے پاس ٹکٹ نہیں تو ٹرین کی سلاخوں کو پکڑ لو اور لٹک جاؤ مگر دیکھنا سونہ جانا۔چنانچہ میں نے ان سلاخوں کو پکڑ لیا اور مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نیندسی آ رہی ہے، اُس وقت میں نے سلاخوں کو بھی پکڑا ہوا ہے اور مٹھیوں سے آنکھوں کو بھی ملتا جاتا ہوں تا کہ سونہ جاؤں۔اس اثناء میں میری آنکھ کھل گئی۔( خواب میں یہ سارا نظارہ دیکھ رہے تھے ) کہتے ہیں میں نے یہ رویا محمد امین صاحب سے بیان کی۔انہوں نے کہا کہ اب آپ پر سچائی کھل گئی ہے۔بیعت کر لیں۔( وہ احمدی تھے۔) میں نے کہا کہ قادیان جا کر بیعت کرلوں گا۔انہوں نے کہا کہ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔ایک کارڈ جو انہوں نے اپنی جیب سے نکال کر مجھے دیا۔( جوابی کارڈ تھا) انہوں نے کہا کہ ابھی اسے لکھ دو۔چنانچہ میں نے بیعت کا خط لکھ دیا اور محمد امین صاحب اُسے پوسٹ کرنے کے لئے گئے۔یہ 1907ء کا واقعہ ہے۔اس کے دو یا تین دن بعد مجھے جواب ملا کہ بیعت حضرت اقدس نے منظور فرمالی ہے اور لکھا ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ استقامت بخشے اور ساتھ یہ لکھا ہوا تھا کہ نماز بالالتزام پڑھا کرو اور درود شریف بھی پڑھا کرو۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ جلد نمبر 12 صفحہ 214-215 از روایات حضرت ڈاکٹر عبدالغنی صاحب کڑک) مکرم میاں شرافت احمد صاحب اپنے والد حضرت مولوی جلال الدین صاحب مرحوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں کہ والد صاحب سے احمدیت سے پہلے بھی الہامات کا سلسلہ جاری تھا اور قبول احمدیت کے بعد یہ سلسلہ بہت ترقی کر گیا۔احمدیت کی بدولت آپ کو رویت باری تعالیٰ بھی ہوئی۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بھی کافی دفعہ ہوئی۔حضرت عمرؓ اور دوسرے بزرگوں کی زیارت وقتا فوقتا ہوتی رہتی تھی۔پھر یہ اپنے والد صاحب کے بارے میں ہی لکھتے ہیں کہ ایک دن مسجد محلہ دارالرحمت میں کسی بات میں چند دوستوں کو رؤیا سنائی جن میں سے ایک دوست تو جناب ماسٹر اللہ دتہ صاحب مرحوم گجراتی تھے۔بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود کا ایک صحابی تھا، اُس کو روزانہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حضوری ہوتی تھی۔وہ صبح کو وہ کشف حضرت کے حضور پیش کرتے ، ( یعنی روزانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو وہ کشف یا رویا جو تھے وہ پیش کرتے تھے ) اور حضور اُس پر