خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 21 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 21

خطبات مسرور جلد 11 21 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جنوری 2013ء ہے۔کچہری میں حاضر رہے۔( یعنی یہاں بیٹھے رہے۔یہ اپنی خواب بیان کر رہے ہیں۔کہتے ہیں اور چند بزرگوں کی میں نے وہاں زیارت کی۔مرزا صاحب خواب میں اجازت لے کر مجھے وہاں اُس مجلس سے واپس لے آئے، اور میرے مکان پر چھوڑ آئے۔جو بزرگ سابقین ولی اللہ گزرچکے ہیں، حضرت میراں جی سید بشیخ شریف والوں نے مجھ کو خواب روحانی میں بیعت کر لیا۔فرمایا، مرزا صاحب کا ہمارا ایک ہی روپ ہے۔وہ مہدی اور ہم بھی مہدی۔ایک بزرگ سلطان ریاست کپورتھلہ خواب میں اُن کی ملاقات ہوئی۔وہ بزرگ کامل تھے۔انہوں نے فرمایا وہ مہدی ہے اور عیسی ہے۔ہمارا اُن کا ایک ہی روپ ہے۔( یہ اپنی خوابوں کا ذکر کر رہے ہیں ) پھر کہتے ہیں کہ جب کرم دین کے ساتھ مرزا صاحب کا مقدمہ تھا تو میرے نزدیک یہاں پر یعنی اُن کے علاقے میں جہاں یہ رہتے تھے۔اُس جگہ گاؤں میں ، قصبہ میں احمدی کوئی نہیں تھا۔تمام لوگ کہتے تھے کہ مرزا صاحب اس مقدمے میں قید ہو جائیں گے۔اُس وقت غم میں آکر میاں حبیب الرحمن حاجی پور والے کے پاس پہنچا۔حبیب الرحمن صاحب نے فرمایا کہ فکرمت کرو۔درود شریف پڑھ کر دعا کرو۔میں نے کثرت سے درود شریف اور الحمد شریف پڑھا اور دعا کرتا رہا۔چند روز میں خواب میں ایک شخص ایک لڑکے کی لاش لے کر اور وہ لاش سات رومال میں لپٹی ہوئی تھی لے کے آیا اور میرے پاس رکھ دی۔میں نے اُس کو کہا، یہ کیا ہے؟ اُس نے کہا دیکھ۔میں نے اُس کے رومال اتارنے شروع کئے۔جب چھیواں رو مال اُتارا ( یعنی کپڑا اُس لاش پر سے اُتارا) تو میں نے کہا یہ بندر کی شکل ہے جو مرزا کا مدعی ہے۔( یعنی جس نے حضرت مرزا صاحب کے خلاف دعوی کیا ہوا ہے ) میں وہاں یعنی کو ٹھے پر بیٹھا تھا، خواب میں اُس کو نیچے گرا دیا۔( اُس مردہ لاش کو نیچے گرا دیا۔پھر کہتے ہیں میں نے یہ خواب لکھ کر حضرت مرزا صاحب کو بھیجا۔حضور نے فرمایا کہ اسی طرح اس کا پردہ فاش ہو گا۔(چنانچہ پردہ فاش بھی ہوا۔) (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ۔جلد نمبر 12 صفحہ 195 تا 199 - از روایات حضرت میاں سوہنے خان صاحب) ڈاکٹر عبدالغنی صاحب کڑک انجام آتھم پڑھ لینے کے بعد کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے اب کتابوں کا مطالعہ شروع کر دیا اور نماز بھی پڑھنی شروع کر دی جس کی مجھے اس سے قبل عادت نہ تھی۔میں نے اس اثنا میں ایک رؤیا دیکھی کہ میں ایک ایسی جگہ پر ہوں کہ میرے سامنے ایک مینار ہے اور مینار کے ساتھ ایک دروازہ ہے جو پرانے فیشن کا موقع تختوں کا ( پرانے فیشن کا تختوں کا دروازہ ہے ) کارکڈ (Carked) دروازہ ہے۔( میرا خیال ہے یہ کا روڈ ، Carved ہوگا ) اس دروازے کو میں کھول کر اندر جانا چاہتا ہوں ، مگر وہ کھلتا نہیں۔میں نے زور سے جو اُ سے دھکا دیا تو ایسا معلوم ہوا کہ میں دروازہ کھلنے کے