خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 231 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 231

خطبات مسرور جلد 11 231 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 اپریل 2013ء پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایک خوبصورت معاشرے کے لئے ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔اسی لئے فرمایا کہ وَلَا تَلْمِزُوا اَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ (الحجرات : 12) تم ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے ناموں سے پکارو۔اب یہ صرف طعن ہی تلمزُوا کا مطلب نہیں ہے۔اس کے وسیع معنے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ بعض عہدیدار اپنے جذبات پر بھی کنٹرول نہیں رکھتے۔بعض دفعہ کام کے لئے آنے والوں کو یا اپنے ساتھیوں کو بھی ایسی باتیں سناتے ہیں جو اُن کو جذباتی ٹھیس پہنچانے والی ہیں۔اور پھر بعض دفعہ کمزور ایمان والے نہ صرف یہ کہ عہد یدار کے خلاف ہو جاتے ہیں بلکہ نظام جماعت سے بھی بددل ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تلمزُوا “۔جیسا کہ میں نے کہا اس کے مختلف معنی ہیں۔مثلاً دھکے دینا، کسی کو مجبور کرنا، مارنا یا کسی پر الزام لگانا ، غلط قسم کی تنقید کرنا کسی کی کمزوریاں اور کمیاں تلاش کرنا۔غلط قسم کی باتیں کسی کو کہنا یا کسی سے اس طرح بات کرنا جو اُ سے بری لگے۔پس اگر عہد یدار ان باتوں کا خیال نہ رکھیں گے تو سوائے اس کے کہ جس شخص سے یہ سلوک کیا جارہا ہو، اُس کے دل میں اُس عہدے دار اور نظام جماعت کے خلاف جذبات پیدا ہوں اور کیا ہوگا۔اسی طرح تنابَزُوا بِالألقاب فرما کر اس طرف توجہ دلائی کہ بجائے اس کے کہ تم کسی کو ایسے ناموں سے پکارو جو اُ سے پسند نہیں ہیں، ہر ایک سے عزت واحترام سے پیش آؤ۔پس یہ ایک بہت بڑی خوبی ہے جو ایک عہدیدار میں ہونی چاہئے۔ویسے تو یہ عموم کا حکم ہے۔ہر مومن کو اس بات کا پابند ہونا چاہئے کہ اُس کا کردار معاشرے میں محبت اور پیار کی فضا پیدا کرنے والا ہولیکن عہد یداروں کو خاص طور پر خیال رکھنا چاہئے۔پھر عہدیدار کی ایک خصوصیت یہ ہونی چاہئے کہ جماعتی اموال کو خاص طور پر بہت احتیاط سے خرچ کریں۔کسی بھی صورت میں اسراف نہیں ہونا چاہئے۔اسی لئے خاص طور پر وہ شعبے جن پر اخراجات زیادہ ہوتے ہیں اور اُن کے بجٹ بھی بڑے ہیں، انہیں صرف اپنے بجٹ ہی نہیں دیکھنے چاہئیں بلکہ کوشش ہو کہ کم سے کم خرچ میں زیادہ سے زیادہ استفادہ کس طرح کیا جاسکتا ہے۔مثلاً ضیافت کا شعبہ ہے لنگر کا شعبہ ہے یا جلسہ سالانہ کے شعبہ جات ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا لنگر اب دنیا میں تقریباً ہر جگہ پھیل چکا ہے۔اور جلسہ سالانہ کا نظام بھی دنیا میں پھیل چکا ہے۔ہر دو شعبوں کے نگرانوں کو بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔اگر بجٹ میں گنجائش بھی ہو تو جائزہ لے کر کم سے کم خرچ کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور یہی