خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 77 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 77

خطبات مسرور جلد 11 77 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم فروری 2013ء ذاتی محبت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے برکت چاہتے ہیں بے انتہا برکتوں سے بقدرا اپنے جوش کے حصہ ملتا ہے۔مگر بغیر روحانی جوش اور ذاتی محبت کے یہ فیضان بہت ہی کم ظاہر ہوتا ہے۔“ مکتوبات احمد۔جلد اول صفحہ 535) یہ تو درود شریف پڑھنے کے طریقے ہیں۔اب میں تھوڑے سے عربی کے بعض وہ اشعار پڑھتا ہوں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تحریر فرمائے۔جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اور مقام اور قوت قدسی اور آپ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت اور اس محبت کے باوجود قوم کا آپ سے جو سلوک ہے، اُس کا ذکر فرمایا ہے۔یہ جتنے بیان میں نے پڑھے ہیں، ان سے سوائے محبت کے اور کچھ بھی نہیں ٹپکتا۔لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کی اکثریت آپ کے خلاف ہے۔ان شعروں میں آپ نے کچھ یوں ذکر فرمایا۔فرماتے ہیں:۔لَا شَكٍّ أَنَّ مُحَمَّدًا خَيْرُ الْوَرى رَيْقُ الْكِرَامِ وَنُخْبَةُ الْأَعْيَانِ که بیشک محمد صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق میں سب سے بہترین ہیں اور معززین میں سے برگزیدہ اور سرداروں میں سے منتخب وجود ہیں۔فرمایا: وَاللَّهِ إِنَّ مُحَمَّدًا كَرِدَافَةٍ وَ بِهِ الْوُصُولُ بِسُدَّةِ السُّلْطَانٍ که بخدا بیشک محمد صلی اللہ علیہ وسلم (خدا کے ) نائب کے طور پر ہیں اور آپ ہی کے وسیلے سے در بارشاہی میں رسائی ہوسکتی ہے۔فرمایا: إِنِّي لَقَد أُحْيِيتُ مِنْ اِحْيَائِهِ وَاهَا لِإِجَارٍ فَمَا أَحْيَانِي کہ بیشک میں آپ کے زندہ کرنے سے ہی زندہ ہوا ہوں ،سبحان اللہ ! کیا اعجاز ہے اور مجھے کیا خوب زندہ کیا ہے۔فرمایا يَا سَيِّدِى قَدْ جِئْتُ بَابَكَ لَاهِفًا وَالْقَوْمُ بِالْإِ كَفَارِ قَدْ أَذَانِي کہ اے میرے آقا! میں آپ کے دروازے پر مظلوم و فریادی بن کر آیا ہوں۔جبکہ قوم نے مجھے کا فر کہہ کر دکھ دیا ہے۔أَنْظُرْ إِلَى بِرَحْمَةٍ وَتَحَتُنٍ يَا سَيْدِى أَنَا أَحْقَرُ الْغِلْمَانِ تو مجھ پر رحمت اور شفقت کی نظر کر۔میرے آقا میں ایک حقیر ترین غلام ہوں چشمِي يَطِيرُ إِلَيْكَ مِنْ شَوْقٍ عَلَا يَا لَيْتَ كَانَتْ قُوَّةُ الطَّيَرَانِ