خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 76 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 76

خطبات مسرور جلد 11 76 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم فروری 2013ء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جاتے ہیں اور پھر وہاں جا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے میں جذب ہو جاتے ہیں اور وہاں سے نکل کر ان کی لا انتہاء نالیاں ہو جاتی ہیں اور بقدر حصہ رسدی ہر حقدار کو پہنچتی ہیں۔یقیناً کوئی فیض بڑوں وساطت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں تک پہنچ ہی نہیں سکتا۔۔۔۔درود شریف کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُس عرش کو حرکت دینا ہے جس سے یہ نور کی نالیاں نکلتی ہیں۔جو اللہ تعالیٰ کا فیض اور فضل حاصل کرنا چاہتا ہے اس کو لازم ہے کہ وہ کثرت سے درودشریف پڑھا کرے تا کہ اس فیض میں حرکت پیدا ہو۔“ ( الحکم۔جلد 7 نمبر 8 مورخہ 28 فروری 1903 ء صفحہ 7 کالم 1-2) پھر اپنے ایک خط میں تعداد کے بارے میں کہ کتنی تعداد میں پڑھا جائے یا تعداد ہونی چاہئے کہ 66 نہیں، فرماتے ہیں بعض دفعہ تعداد بتائی بھی ہے لیکن اس میں بتایا کہ : درود شریف وہی بہتر ہے کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے نکلا ہے۔اور وہ یہ ہے۔(ایک تو یہ کہ درود شریف کونسا بہتر ہے اور پھر کتنا پڑھا جائے۔فرمایا وہی بہتر ہے کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے نکلا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ اللَّهُمَّ بَارِكَ عَلَى مُحَمَّدٍ وعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ۔66 فرمایا ” سب اقسام درود شریف سے یہی درود شریف زیادہ مبارک ہے۔یہی اس عاجز کا ورد ہے اور کسی تعداد کی پابندی ضرور نہیں۔اخلاص اور محبت اور حضور اور تضرع سے پڑھنا چاہئے اور اُس وقت تک ضرور پڑھتے رہیں کہ جب تک ایک حالت رقت اور بے خودی اور تاثر کی پیدا ہو جائے اور سینہ میں انشراح اور ذوق پایا جائے۔“ (مکتوبات احمد۔جلد اول صفحہ 526) پھر اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کے حکم میں کیا حکمت ہے آپ فرماتے ہیں کہ : اگر چہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی دوسرے کی دعا کی حاجت نہیں لیکن اس میں ایک نہایت عمیق بھید ہے۔( بڑا گہرا راز ہے جو شخص ذاتی محبت سے کسی کے لئے رحمت اور برکت چاہتا ہے وہ باعث علاقہ ذاتی محبت کے اُس شخص کے وجود کی ایک جز ہو جاتا ہے ( یعنی جب کسی سے ذاتی محبت ہو اور ذاتی محبت کی وجہ سے رحمت اور برکت چاہے تو اُس کا ایک حصہ بن جاتا ہے ) اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر فیضان حضرت احدیت کے بے انتہا ہیں اس لئے درود بھیجنے والوں کو کہ جو