خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 75
خطبات مسرور جلد 11 75 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم فروری 2013ء ”جیسا کہ میں نے (پہلے زبانی سمجھا رہے تھے مجلس میں ذکر ہورہا ہے۔) زبانی بھی سمجھایا تھا ( کہ درود شریف ) اس غرض سے پڑھنا چاہئے کہ تا خداوند کریم اپنی کامل برکات اپنے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) پر نازل کرے اور اُس کو تمام عالم کے لئے سرچشمہ برکتوں کا بنا دے اور اُس کی بزرگی اور اس کی شان وشوکت اس عالم اور اُس عالم میں ظاہر کرے۔یہ دعا حضور تائم سے ہونی چاہئے جیسے کوئی اپنی مصیبت کے وقت حضور تام سے دعا کرتا ہے۔(ایک دلی گہرائی کے ساتھ پوری طرح یہ درود شریف کی دعا ہونی چاہئے جیسے تم اپنے لئے دعا کرتے ہو۔فرمایا بلکہ اس سے بھی زیادہ تضرع اور التجا کی جائے اور کچھ اپنا حصہ نہیں رکھنا چاہئے بلکہ اپنے لئے انسان جو دعائیں کرتا ہے اُس سے بھی زیادہ بڑھ کر تضرع اور التجا ہوان دعاؤں میں اور اس میں اپنا کچھ حصہ نہ ہو۔فرمایا کہ اور کچھ اپنا حصہ نہیں رکھنا چاہئے کہ اس سے ( یعنی درود شریف پڑھنے سے ) مجھ کو یہ ثواب ہوگا یا یہ درجہ ملے گا بلکہ خالص یہی مقصود چاہئے کہ برکات کا ملہ الہیہ حضرت رسول مقبول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر نازل ہوں اور اُس کا جلال دنیا اور آخرت میں چمکے اور اسی مطلب پر انعقاد ہمت چاہئے۔اور دن رات دوام توجہ چاہئے یہاں تک کہ کوئی مراد اپنے دل مکتوبات احمد۔جلد اول صفحہ 523) میں اس سے زیادہ نہ ہو۔“ یہ ہے عشق رسول۔پھر آپ اپنے ایک مکتوب میں جو میر عباس علی شاہ صاحب کو لکھا تھا، جو بعد میں بہر حال پھر گئے تھے۔فرماتے ہیں: آپ درود شریف کے پڑھنے میں بہت ہی متوجہ رہیں اور جیسا کوئی اپنے پیارے کیلئے فی الحقیقت برکت چاہتا ہے ایسے ہی ذوق اور اخلاص سے نبی کریم کے لئے برکت چاہیں اور بہت ہی تضرع سے چاہیں اور اُس تضرع اور دعا میں کچھ بناوٹ نہ ہو بلکہ چاہئے کہ حضرت نبی کریم سے سچی دوستی اور محبت ہو اور فی الحقیقت روح کی سچائی سے وہ برکتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مانگی جائیں کہ جو درود شریف میں مذکور ہیں۔اور ذاتی محبت کی یہ نشانی ہے کہ انسان کبھی نہ تھکے اور نہ کبھی ملول ہو اور نہ اغراض نفسانی کا دخل ہوا اور محض اسی غرض کے لئے پڑھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر خداوند کریم کے برکات ظاہر ہوں۔مکتوبات احمد - جلد اول صفحہ 535-534) پھر ایک مجلس میں آپ نے فرمایا: درود شریف کے طفیل۔۔۔میں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فیوض عجیب نوری شکل میں