خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 69 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 69

خطبات مسرور جلد 11 69 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم فروری 2013ء 66 کے بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے جو امتی نہیں یعنی آپ کی پیروی سے فیض یاب نہیں۔“ یہ حوالہ حقیقۃ الوحی کا ہے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 28 تا 30 ) پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں اور تربیت کی وجہ سے صحابہ کرام کے مقام کی ترقیات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے دلوں میں وہ جوشِ عشق الہی پیدا ہوا اور توجہ قدسی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ تاثیر اُن کے دلوں میں ظاہر ہوئی کہ انہوں نے خدا کی راہ میں بھیڑوں اور بکریوں کی طرح سر کٹائے۔کیا کوئی پہلی اُمت میں ہمیں دکھا سکتا ہے یا نشان دے سکتا ہے کہ انہوں نے بھی صدق اور صفا کھلایا۔“ پھر آپ نے حضرت موسیٰ کی بھی مثال دی کہ اُن کی قوم میں بھی نظر نہیں آتا۔پھر فرمایا: حضرت مسیح کے صحابہ کا حال سنو۔جس قدر حواری تھے، وہ مصیبت کا وقت دیکھ کر بھاگ گئے اور ایک نے بھی استقامت نہ دکھلائی اور ثابت قدم نہ رہے اور بزدلی اُن پر غالب آ گئی۔اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے تلواروں کے سایہ کے نیچے وہ استقامتیں دکھلا ئیں اور اس طرح مرنے پر راضی ہوئے جن کی سوانح پڑھنے سے رونا آتا ہے۔پس وہ کیا چیز تھی جس نے ایسی عاشقانہ روح اُن میں پھونک دی اور وہ کونسا ہاتھ تھا جس نے اُن میں اس قدر تبدیلی کر دی۔یا تو جاہلیت کے زمانہ میں وہ حالت اُن کی تھی کہ وہ دنیا کے کیڑے تھے اور کوئی معصیت اور ظلم کی قسم نہیں تھی جو ان سے ظہور میں نہیں آئی تھی اور یا اس نبی کی پیروی کے بعد ایسے خدا کی طرف کھینچے گئے کہ گویا خدا ان کے اندر سکونت پذیر ہو گیا۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ یہ وہی توجہ اُس پاک نبی کی تھی جو اُن لوگوں کو سفلی زندگی سے ایک پاک زندگی کی طرف کھینچ کر لے آئی۔اور جو لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہوئے اُس کا سبب تلوار نہیں تھی بلکہ وہ اُس تیرہ سال کی آہ وزاری اور دعا اور تضرع کا اثر تھا جو مکہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کرتے رہے۔اور مکہ کی زمین بول اُٹھی کہ میں اس مبارک قدم کے نیچے ہوں جس کے دل نے اس قدر توحید کا شور ڈالا جو آسمان اُس کی آہ وزاری سے بھر گیا۔خدا بے نیاز ہے۔اُس کو کسی ہدایت یا ضلالت کی پرواہ نہیں“۔(کوئی ہدایت پاتا ہے یا گمراہ ہوتا ہے اُس کو پرواہ نہیں)۔پس یہ نور ہدایت جو خارق عادت طور پر عرب کے جزیرہ میں ظہور میں آیا اور پھر دنیا میں پھیل گیا، یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دلی سوزش کی تاثیر