خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 704
خطبات مسر در جلد 11 704 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 دسمبر 2013ء آٹھواں سب عملی اصلاح میں روک کا یہ ہے کہ عمل کی اصلاح اُس وقت تک بہت مشکل ہے جب تک خاندان کی اصلاح نہ ہو۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 384 خطبہ جمعہ 12 جون 1936ء) مثلاً دیانتداری اُس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی یا اُس کا معیار قائم نہیں رہ سکتا، جب تک بیوی بچے بھی پورا تعاون نہیں کرتے۔گھر کا سر براہ کتنا ہی حلال مال کمانے والا ہو لیکن اگر اُس کی بیوی کسی ذریعہ سے بھی ہمسایوں کو لوٹتی ہے یا کسی اور ذریعہ سے کسی کو نقصان پہنچاتی ہے، مال غصب کرنے کی کوشش کرتی ہے یا اُس کا بیٹا رشوت کا مال گھر میں لاتا ہے تو اس گھر کی روزی حلال نہیں بن سکتی۔خاص طور پر اُن گھروں میں جہاں سب گھر والے اکٹھے رہتے ہیں، جوائنٹ فیملی سسٹم ہے اور اُن کے اکٹھے گھر چل رہے ہوتے ہیں۔اسی طرح دوسرے اعمال ہیں۔جب تک سب گھر والوں کے اعمال میں ایک ہو کر بہتری کی کوشش نہیں ہوگی، کسی نہ کسی وقت ایک دوسرے کو متاثر کر دیں گے۔بیوی نیک ہے اور خاوند رزق حلال نہیں کماتا تو تب بھی گھر متاثر ہو گا۔نمازوں کی طرف اگر باپ کی توجہ ہے لیکن اپنے بچوں کو توجہ نہیں دلاتا یا باپ کہتا ہے لیکن ماں تو جہ نہیں کر رہی۔یا ماں تو جہ دلا رہی ہے اور باپ بے نمازی ہے تو بچے اُس کی نقل کریں گے۔گزشتہ خطبہ میں بھی میں نے یہ مثالیں دی تھیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے : قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا (التحریم : 66 ) کہ نہ صرف اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ بلکہ اپنے اہل و عیال کو بھی جہنم کی آگ سے بچاؤ۔تمہارا صرف اپنے آپ کو دوزخ کی آگ سے بچانا کافی نہیں ہے بلکہ دوسروں کو بھی بچانا فرض ہے۔اگر دوسروں کو نہیں بچاؤ گے تو وہ تمہیں ایک دن لے ڈوبیں گے۔پس اعمال کی اصلاح کے لئے پورے گھر کی اصلاح کی ضرورت ہے اور اس کے لئے سب کو کوشش کرنی چاہئے۔اس میں گھر کے سربراہ کا سب سے اہم کردار ہے۔اکثر اوقات بیوی بچوں کی طرف سے غفلت یا اُن کی تکلیف کا احساس یا بے جالا ڈا اپنی اور اپنے گھر والوں کی اصلاح میں روک بن جاتا ہے۔ان آٹھ باتوں کے علاوہ بھی بعض وجوہات عملی اصلاح میں روک کی ہو سکتی ہیں۔یہ چند اہم باتیں جیسا کہ میں نے کہی ہیں لیکن اگر ان پر غور کیا جائے تو تقریباً تمام باتیں انہی آٹھ باتوں میں سمٹ بھی جاتی ہیں۔