خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 705
خطبات مسرور جلد 11 705 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 دسمبر 2013ء بہر حال خلاصہ یہ کہ اعمال کے بارے میں ایسی روکیں موجود ہیں جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے ہٹا دیتی ہیں۔اُس کے قرب سے دور پھینک دیتی ہیں۔اگر ہم اپنے اعمال کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں تو اس طرف توجہ کی ضرورت ہے۔صرف کہہ دینے سے اصلاح نہیں ہوگی بلکہ ان ذرائع کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے جن کے ذریعہ سے اصلاح ممکن ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے ایک مثال دی ہے کہ یورپ کا ایک مشہور لیکچر رتھا اور بڑے اعلی قسم کے لیکچر دیا کرتا تھالیکن لیکچر دیتے وقت وہ اپنے کندھے بہت زور زور سے ہلا یا کرتا تھا، اوپر نیچے کیا کرتا تھا۔لوگوں نے اُسے کہا کہ تم لیکچر تو بہت اچھا دیتے ہولیکن تمہارے کندھوں کی اوپر نیچے کی حرکت کی وجہ سے اکثر لوگوں کو ہنسی آ جاتی ہے۔اُس نے بڑی کوشش کی کہ یہ جو نقص ہے وہ دُور ہو جائے لیکن دور نہ ہوا۔آخر اُس نے اس کا علاج اس طرح شروع کیا کہ دو تلوار میں اُس نے چھت سے ٹانگ لیں جو اُس کی height تک پہنچتی تھیں، کندھوں تک پہنچتی تھیں اور اُن کے نیچے کھڑا ہو کر اُس نے تقریر کی مشق کرنا شروع کر دی۔جب کبھی کندھا ہلاتا تھا تو تلوار اُس کے کندھے پر لگتی تھی کبھی دائیں کبھی بائیں۔چنانچہ چند دن کی کوشش کے بعد اُس کی یہ عادت ختم ہوگئی۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحه 390 خطبہ جمعہ 12 جون 1936ء) پس نیک عمل کی عادت ڈالنے کے لئے ایسے طریق اختیار کرنے کی ضرورت ہے جس سے مجبور ہو کر نیک اعمال بجالانے کی طرف توجہ پیدا ہو اور اس کے لئے سب کو مل کر کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ہر گھر کو کوشش کرنے کی ضرورت ہے اور ہر گھر کے ہر فرد کو کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔اور یہ کوشش بغیر قربانی کے نہیں ہوسکتی۔بغیر وہ طریقہ اختیار کئے نہیں ہو سکتی جس سے برائیوں کو چھوڑنے کے لئے اگر تکلیفیں بھی برداشت کرنی پڑیں تو کی جائیں۔ہر فر د جماعت کو جائزے کی ضرورت ہے، قربانی کی ضرورت ہے، پختہ عہد کی ضرورت ہے، ورنہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔وہ بہت بڑا مقصد جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے تھے، یہ ہے کہ ہمارے عقیدے اور اعمال دونوں کی اصلاح ایسے اعلیٰ معیار پر ہو کہ جس پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد پنجم صفحه 454-455 مطبوعہ ربوہ ) جیسا کہ میں پہلے خطبوں میں کہہ چکا ہوں، بیشک ہم نے عقیدے کے میدان میں بہت عظیم الشان فتح حاصل کر لی ہے، یہاں تک کہ وہی عقائد جن کو جب جماعت کی طرف سے پیش کیا جا تا تھا تو دشمن کی طرف سے سختی سے انکار کیا جاتا تھا لیکن آج بعض دشمن بھی اُن باتوں کے قائل ہورہے ہیں۔ایسے بھی