خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 700 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 700

خطبات مسرور جلد 11 700 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 دسمبر 2013ء ہیں کہ کوئی امیر ممالک میں رہنے والا اپنی بیٹی کی شادی پاکستان میں کرتا ہے اور داماد کو پہلے دن ہی کہہ دیتا ہے کہ میں نے اپنی بچی بڑے لاڈ پیار سے پالی ہے اور اس کو ہر قسم کی آزادی ہے۔اس پر کسی قسم کی پابندی نہ لگانا اور بیٹی کا دماغ باپ کی شہ پر عرش پر پہنچا ہوتا ہے۔خاوند کو وہ کوئی چیز نہیں سمجھتی۔حالانکہ اسلامی تعلیم ہے کہ بیوی خاوند کے حقوق ادا کرے اور اپنے گھر کی ذمہ داریاں نبھائے ، یہ اُس کے فرائض میں داخل ہے۔کبھی لڑ کے پاکستان سے لڑکیاں بیاہ کر لاتے ہیں اور لڑکی کو ظلم کی چکی میں پیتے چلے جاتے ہیں اور لڑکے کے ماں باپ کہتے ہیں کہ لڑکی سب کچھ برداشت کرے، مرد تو ایسے ہی ہوتے ہیں۔یہ بچوں کا لاڈ جہاں ماں باپ کی عملی حالت کو برباد کر رہا ہوتا ہے، وہاں گھروں کو بھی برباد کر رہا ہوتا ہے۔پس بیوی بچوں کی وجہ سے عملی اصلاح میں روک کی بے شمار مثالیں ہیں۔کئی اعمال ایسے ہیں جو انسان کی کمزوری ظاہر کر رہے ہوتے ہیں۔کیونکہ بیوی بچوں کے لاڈ یا ضروریات اُن کے آڑے آ جاتی ہیں۔ان کی محبت اُس کو نیک عمل سے روک لیتی ہے۔بچوں کے حق میں جھوٹی گواہیاں، بچوں کے لاڈ کی وجہ سے دی جاتی ہیں۔غریب ممالک میں یا تیسری دنیا کے ممالک میں تو یہ بیماری عام ہے کہ افسران رشوت لیتے ہیں۔صرف اپنے لئے نہیں لیتے بلکہ بچوں کے لئے ، جائیدادیں بنانے کے لئے، بچوں کے لئے جائیدادیں بنا کر چھوڑ جانے کے لئے وہ رشوت لیتے ہیں یا انہیں تعلیم دلوانے کے لئے، مہنگے سکولوں میں پڑھوانے کے لئے رشوت لی جاتی ہے۔پس انسانی اعمال کی درستی میں جذبات اور جذبات کو ابھارنے والے رشتے روک بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور ان کی درستی اس صورت میں ممکن ہے جب خدا تعالیٰ کی محبت ایسے مقام پر پہنچ جائے کہ اس محبت کی شدت کے مقابلے میں بیوی بچوں کی محبت اور اُن کے لئے پیدا ہونے والے جذبات معمولی حیثیت اختیار کر لیں۔اور انسان اس کے اثرات سے بالکل آزاد ہو جائے۔اگر یہ نہیں تو عملی اصلاح بہت مشکل ہے۔چھٹا سبب عملی اصلاح میں روک کا یہ ہے کہ انسان اپنی مستقل نگرانی نہیں رکھتا۔یعنی عمل کا خیال ہر وقت رکھنا پڑتا ہے تبھی عملی اصلاح ہوسکتی ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 380 خطبہ جمعہ 12 جون 1936ء) ہر کام کرتے وقت یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ اس کام کے نتائج نیک ہیں یا نہیں۔اس کام کو کرنے کی مجھے اجازت ہے یا نہیں۔میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس بات پر عمل کر رہا ہوں