خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 699 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 699

خطبات مسرور جلد 11 699 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 دسمبر 2013ء حالت ہے۔وہ کھانا نہیں کھائیں گے اور بیٹھے فلمیں دیکھ رہے ہیں تو دیکھتے چلے جائیں گے۔انٹرنیٹ پر بیٹھے ہیں تو بیٹھے چلے جائیں گے۔نیند آ رہی ہے تب بھی وہ بیٹھے دیکھتے رہیں گے۔نہ بچوں کی پرواہ، نہ بیوی کی پر واہ تو ایسے لوگ بھی ہیں۔پس یہ جو عادتیں ہیں، یہ عملی اصلاح میں روک کا بہت بڑا کردار ادا کرتی ہیں۔عملی اصلاح میں روک کا پانچواں سبب بیوی بچے بھی ہیں۔یہ ملی اصلاح کی راہ میں حائل ہوتے ہیں۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحه 375 خطبہ جمعہ 12 جون 1936ء) بسا اوقات انسان کو بیوی بچوں کی تکالیف عملی طور پر ابتلا میں ڈال دیتی ہیں۔مثلاً اسلام کی یہ تعلیم ہے کہ کسی کا مال نہیں کھانا۔اب اگر کسی نے کسی کے پاس کوئی رقم بطور امانت رکھوائی ہولیکن اُس کا کوئی گواہ نہ ہو، کوئی ثبوت نہ ہو تو جس کے پاس امانت رکھوائی گئی ہے اُس کی نیت میں بعض دفعہ اپنے بیوی بچوں کی ضروریات کی وجہ سے کھوٹ آ جاتا ہے، نیت بد ہو جاتی ہے، اُسے خیال آتا ہے کہ میری بیوی نے کچھ رقم کا مطالبہ مجھ سے کیا تھا اور اس وقت میرے پاس رقم نہیں تھی میں نے مطالبہ پورا نہیں کیا۔یا میرے بچے نے فلاں چیز کے لئے مجھ سے رقم مانگی تھی اور میں اُسے دے نہ سکا تھا۔اب موقع ہے۔یہ رقم مار کر میں اپنے بیوی اور بچے کے مطالبہ کو پورا کرسکتا ہوں یا بچے کی بیماری کی وجہ سے علاج کے لئے رقم کی ضرورت ہے ، رقم نہیں ہے۔اس امانت سے فائدہ اُٹھا کر اور یہ رقم خرچ کر کے میں اس کا علاج کروالوں، بعد میں دیکھا جائے گا کہ رقم دینی ہے یا نہیں دینی۔یا کسی اور مقصد کے لئے جو بیوی بچوں سے متعلقہ مقصد ہے، انسان کسی دوسرے کی رقم غصب کر لیتا ہے۔تو یہ امانت کے متعلق اسلامی تعلیم کے خلاف ہے کہ جب امانت رکھوائی جائے تو تم نے بہر حال واپس کرنی ہے، چاہے اُس کے گواہ ہیں یا نہیں ہیں، کوئی ثبوت ہے یا نہیں ہے۔بعض دفعہ بعض لوگ اپنے بچوں کے فوائد کے لئے ، اُن کے لئے جائیداد بنانے کے لئے نابالغ یتیموں کا حق مار لیتے ہیں یا کچھ حد تک انہیں نقصان پہنچا دیتے ہیں۔پھر صرف مالی معاملات کی بات نہیں ہے۔صرف یہی مثالیں نہیں ہیں۔اس آزاد اور ترقی پسند معاشرے میں بعض ماں باپ خاص طور پر اور عموماً یہ بات کرتے ہیں لیکن غریب ممالک میں بھی یہ چیزیں سامنے آ جاتی ہیں کہ لاڈ پیار کی وجہ سے بچوں کو اسلامی تعلیم کی پابندی کروانے کی کوشش نہیں کی جاتی۔یہ باتیں جو میں کر رہا ہوں، افسوس سے میں کہوں گا کہ یہ ہمارے احمدی معاشرے میں نظر آ جاتی ہیں، وقتاً فوقتا سامنے آتی رہتی ہیں۔کسی نے کسی کی امانت کھالی۔کسی نے کسی کو کسی اور قسم کا مالی دھوکہ دے دیا۔کسی نے یتیم کا مال پورا ادا کرنے کا حق ادا نہیں کیا۔قضاء میں بعض ایسے معاملات آتے ہیں یا شکایات آتی