خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 698
خطبات مسرور جلد 11 698 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 دسمبر 2013ء فضول اور بیہودہ باتیں سننے پر مجبور ہوتے تھے۔اُن تایا سے ایک دفعہ حضرت خلیفتہ اسیح الاول نے پوچھا کہ کبھی آپ نے نماز بھی پڑھی ہے؟ اُن کی دینی حالت کا یہ حال تھا، کہنے لگے کہ بچپن سے ہی میری طبیعت ایسی ہے کہ جب میں کسی کو سر نیچے کئے دیکھتا ہوں تو مجھے ہنسی آنی شروع ہو جاتی ہے۔مراد یہ تھی کہ جب میں کسی کو سجدے میں دیکھتا ہوں، نماز پڑھتے دیکھتا ہوں تو اُس وقت سے میں مذاق اُڑایا کرتا تھا۔حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ ان صاحب کے پاس دوست چلے جاتے تھے اور حقے کی مجبوری کی وجہ سے اسلام کے خلاف اور سلسلے کے خلاف باتیں بھی سنی پڑتی تھیں اور سنتے تھے۔ایک دفعہ ایک دوست وہاں گئے اور اپنے آپ کو گالیاں دیتے ہوئے ، برا بھلا کہتے ہوئے باہر نکلے کسی نے پوچھا یہ کیا ہوا ہے؟ تو کہتے ہیں، اس حقے کی وجہ سے، اس لعنت کی وجہ سے میرے نفس نے مجھے ایسی باتیں سننے پر مجبور کیا ہے جو عام حالات میں میں برداشت نہیں کر سکتا۔تو عادتیں بعض دفعہ انسان کو بہت ذلیل کروا دیتی ہیں۔بعض لوگوں کو جھوٹ بولنے کی عادت ہوتی ہے۔لاکھ سمجھاؤ، نگرانی کرو مگر جھوٹ بولنے سے باز نہیں آتے۔اُن کی اصلاح مشکل ہوتی ہے۔یہ نہیں کہ ہو نہیں سکتی۔اگر اصلاح نہ ہو سکے تو اُن کو سمجھانے کی ضرورت کیا ہے۔خطبات میں بھی مستقل سمجھایا جاتا ہے نصیحتیں کی جاتی ہیں۔خدا تعالیٰ کا سمجھائے جانے کا حکم ہے۔اگر ایمان کی کچھ بھی رمق ہے تو نصیحت بہر حال فائدہ دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ مومنوں کو نصیحت کرو اُن کے لئے فائدہ مند ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 367 تا 369 خطبہ جمعہ 5 جون 1936ء) ایک واقعہ ہے کہ ایک صاحب کو گالی دینے کی، ہر وقت گالی دینے کی ، ہر بات پر گالی دینے کی عادت تھی۔اور اُن کو بعض دفعہ پتہ بھی نہیں لگتا تھا کہ میں گالی دے رہا ہوں۔اُن کی شکایت حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس کسی نے کی۔آپ نے جب اُن کو بلا کر پوچھا کہ سنا ہے آپ گالیاں بڑی دیتے ہیں تو گالی دے کر کہنے لگے کون کہتا ہے میں گالی دیتا ہے۔تو عادت میں احساس ہی نہیں ہوتا کہ انسان کیا کہہ رہا ہے۔بعض بالکل ایسی حالت میں ہوتے ہیں کہ عادت کی وجہ سے اُن کو احساس ختم ہو جاتے ہیں، احساس مٹ جاتے ہیں۔لیکن اگر انسان کوشش کرے تو اُن مٹے ہوئے احساسات کو ختم ہوئے ہوئے احساسات کو دوبارہ پیدا بھی کیا جاسکتا ہے،اصلاح بھی کی جاسکتی ہے۔بہر حال عملی حالت کی روک میں عادت کا بہت بڑا دخل ہے۔آجکل ہم دیکھتے ہیں، بیہودہ فلمیں دیکھنے کا بڑا شوق ہے۔انٹرنیٹ پر لوگوں کے شوق ہیں اور بعض لوگوں کی ایسی حالت ہے کہ اُن کی نشے والی