خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 695 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 695

خطبات مسرور جلد 11 695 51 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 دسمبر 2013ء خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 20 دسمبر 2013 ء بمطابق 20 فتح 1392 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: گزشتہ خطبہ میں حضرت خلیفہ امسیح الثانی کے خطبات سے استفادہ کرتے ہوئے عملی اصلاح کی روک کے دو اسباب بتائے تھے۔اس بارے میں جو باقی اہم اسباب ہیں، وہ آج بیان کروں گا۔عملی اصلاح میں روک کا تیسرا سبب فوری یا قریب کے معاملات کو مدنظر رکھنا ہے۔جبکہ عقیدے کے معاملات دُور کے معاملات ہیں، ایسے معاملات ہیں جن کا تعلق زیادہ تر بعد کی زندگی سے ہے جسے آجل کہتے ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ عملی حالت کے معاملات فوری نوعیت کے ہوتے ہیں یا بظاہر انسان سمجھ رہا ہوتا ہے کہ یہ ایسی باتیں ہیں جن کا عقیدے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اگر میں کوئی غلط کام کرلوں تو اس سے خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا جو عقیدہ ہے وہ تو متاثر نہیں ہوتا۔مثلاً سنار ہے، وہ سمجھتا ہے کہ میں سونے میں کھوٹ ملالوں تو اس سے میرے ایک خدا کو ماننے کے عقیدے پر کوئی حرف نہیں آتا لیکن میری کمائی زیادہ ہو جائے گی۔جلد یا زیادہ رقم حاصل کرنے والا میں بن جاؤں گا۔پس اُس نے اپنے قریب کے فائدے کو دیکھ کر ایک ایسا راہ عمل اختیار کر لیا جو صرف اخلاقی گراوٹ ہی نہیں بلکہ چوری بھی ہے اور دھو کہ بھی ہے۔اس لئے یہ عمل کیا۔اُس نے سمجھا کہ اُس کے عقیدے کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔اس کا کوئی تعلق نہیں۔بڑے بڑے حاجی ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ کاروباری دھو کے کرتے ہیں لیکن اپنے حاجی ہونے پر فخر ہے۔ان دھوکوں کے وقت یہ بھول جاتے ہیں یا اس بات کی اہمیت نہیں سمجھتے کہ مرنے کے بعد کی زندگی بھی ہے اور ان دنیاوی اعمال کا مرنے کے بعد کی