خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 696 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 696

خطبات مسرور جلد 11 696 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 دسمبر 2013ء زندگی پر بھی اثر پڑتا ہے۔اسی طرح نبی کی دی ہوئی تعلیم پر عمل فائدہ مند ہے یا نجات کس کو ملے گی ، ایسے سوال عام طور پر انسانوں کو دُور کے سوال نظر آتے ہیں۔اصل چیز جو دل و دماغ پر حاوی ہوتی ہے، وہ فوری فائدہ یا فوری تسکین ہے۔اسی وجہ سے جو سنار ہے وہ سونے میں کھوٹ ملاتا ہے، چاندی کو وزن میں کم کر دیتا ہے۔دوکاندار ہے جو جنس میں ملاوٹ کر دیتا ہے۔کارخانے دار ہے جو کسی چیز کا نمونہ دکھا کر آرڈر وصول کرتا ہے اور ترسیل جو ہے وہ کم معیار کی چیز کی کرتا ہے۔خاص طور پر تیسری دنیا کے ممالک میں یہ چیز عام ہے۔پس عمل کی اصلاح کے راستے میں دنیوی ضروریات حائل ہو جاتی ہیں اور دھوکہ، جھوٹ اور فریب کے فوری فوائد دُور کے نقصان کو دل اور دماغ سے نکال دیتے ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے بعض مثالیں بھی دی ہیں۔مثلاً غیبت ایک بہت بڑا گناہ ہے۔کسی کا افسر اپنے ماتحت کو تکلیفیں دیتا ہے، ظلم و ستم کرتا ہے، لیکن ماتحت اپنے افسر کے خلاف کچھ نہیں کرسکتا۔اتفاقاً اس ماتحت کی اُس افسر سے بھی بڑے افسر سے ملاقات ہو جاتی ہے اور وہ بڑا افسر اس افسر کے خلاف کچھ کہتا ہے تو یہ شخص جس کو اپنے افسر سے تکلیفیں پہنچ رہی ہوتی ہیں خوش ہو جاتا ہے کہ جس موقع کی مجھے تلاش تھی وہ آج مجھے مل گیا۔اور اس چھوٹے افسر کے خلاف جس نے اُسے تنگ کیا ہوتا ہے، ایسی باتیں کرتا ہے اور اُس کے ایسے عیوب بیان کرتا ہے کہ بڑا افسر اُس چھوٹے افسر پر اور زیادہ ناراض ہو۔اور جھوٹ، سچ جو کچھ ہو سکتا ہے بیان کر دیتا ہے تا کہ اپنا بدلہ لے سکے اور اُس وقت اُسے یہ خیال آتا ہے کہ آج اگر میں غیبت نہ کروں تو میری جان اور مال کا خطرہ دُور نہیں ہوگا اور وہ اس وجہ سے بے دھڑک غیبت کا ارتکاب کر دیتا ہے اور اس دنیا کا فائدہ اُٹھا لیتا ہے۔پس دنیوی فوائد کے لئے انسان بدیوں کا ارتکاب کر لیتا ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 351 352 خطبہ جمعہ 29 مئی 1936ء) چوتھا سبب عملی اصلاح کی کمزوری کا یہ ہے کہ عمل کا تعلق عادت سے ہے اور عادت کی وجہ سے کمزوریاں پیدا ہو جاتی ہیں اور خصوصاً ایسے وقت میں جب مذہب کے ساتھ حکومت نہ ہو۔یعنی حکومت کے قوانین کی وجہ سے بعض عملی اصلاحیں ہو جاتی ہیں لیکن بد قسمتی سے اسلام میں جن باتوں کو اخلاقی گراوٹیں کہا جاتا ہے اور اُس کی اصلاح کی طرف اسلام تو جہ دلاتا ہے ان میں اسلامی ممالک میں انصاف کا فقدان ہونے کی وجہ سے، دو عملی کی وجہ سے، باوجود اسلامی حکومت ہونے کے اسلامی ممالک میں بھی عملی حالت قابل فکر ہے۔اور غیر اسلامی ممالک میں بعض باتیں جن کے لئے اصلاح ضروری ہے، وہ اُنہیں بد عملی اور اخلاقی گراوٹ نہیں سمجھتے ، اس لئے بعض باتوں کی عملی اصلاح نہیں ہو سکتی۔