خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 64
خطبات مسرور جلد 11 64 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم فروری 2013ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : اصل حقیقت یہ ہے کہ سب نبیوں سے افضل وہ نبی ہے کہ جو دنیا کا مربی اعظم ہے۔یعنی وہ شخص کہ جس کے ہاتھ سے فساد اعظم دنیا کا اصلاح پذیر ہوا۔جس نے تو حید گم گشتہ اور نا پدید شدہ کو پھر زمین پر قائم کیا۔جس نے تمام مذاہب باطلہ کو حجت اور دلیل سے مغلوب کر کے ہر یک گمراہ کے شبہات مٹائے جس نے ہر یک ملحد کے وسواس دور کئے اور سچا سامان نجات کا۔۔۔اصول حقہ کی تعلیم سے از سر نو عطا فرمایا۔پس اس دلیل سے کہ اس کا فائدہ اور افاضہ سب سے زیادہ ہے اس کا درجہ اور رتبہ بھی سب سے زیادہ ہے۔اب تو رای بتلاتی ہے۔کتاب آسمانی شاہد ہے اور جن کی آنکھیں ہیں وہ آپ بھی دیکھتے ہیں کہ وہ نبی جو بموجب اس قاعدہ کے سب نبیوں سے افضل ٹھہرتا ہے وہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“ ( براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 97 بقیہ حاشیہ 6) 66 براہینِ احمدیہ کا یہ حوالہ ہے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمہ کی عظمت بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔حضرت موسیٰ بردباری اور حلم میں بنی اسرائیل کے تمام نبیوں سے سبقت لے گئے تھے۔اور بنی اسرائیل میں نہ مسیح اور نہ کوئی دوسرا نبی ایسا نہیں ہوا جو حضرت موسیٰ کے مرتبہ عالیہ تک پہنچ سکے۔توریت سے ثابت ہے جو حضرت موسیٰ رفق اور حلم اور اخلاق فاضلہ میں سب اسرائیلی نبیوں سے بہتر اور فائق تر تھے۔جیسا کہ گنتی باب دوازدہم آیت سوم توریت میں لکھا ہے کہ موسیٰ سارے لوگوں سے جو روئے زمین پر تھے زیادہ بردبار تھا۔سوخدا نے توریت میں موسی کی برد باری کی ایسی تعریف کی جو بنی اسرائیل کے تمام نبیوں میں سے کسی کی تعریف میں یہ کلمات بیان نہیں فرمائے۔ہاں جو اخلاق فاضلہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن شریف میں ذکر ہے وہ حضرت موسیٰ سے ہزار ہا درجہ بڑھ کر ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تمام ان اخلاق فاضلہ کا جامع ہے جو نبیوں میں متفرق طور پر پائے جاتے تھے۔اور نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں فرمایا ہے۔إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم:5) تو خلق عظیم پر ہے۔اور عظیم کے لفظ کے ساتھ جس چیز کی تعریف کی جائے وہ عرب کے محاورہ میں اس چیز کے انتہائے کمال کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔مثلاً اگر یہ کہا جائے کہ یہ درخت عظیم ہے تو اس سے یہ مطلب ہوگا کہ جہاں تک درختوں کے لئے طول و عرض اور تناوری ممکن ہے وہ سب اس درخت میں حاصل۔