خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 692
خطبات مسرور جلد 11 692 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 دسمبر 2013ء اُس کو الٹی آ گئی۔تو یہ بچپن سے گائے کے گوشت سے نفرت پیدا کرنے کا نتیجہ ہے کہ بڑے ہو کر مسلمان ہو کر پھر بھی اُس سے کراہت ہے۔اب عقیدہ کے لحاظ سے بیشک انہوں نے اپنا عقیدہ بدل لیا۔نیا عقیدہ اختیار کر لیا لیکن ماں باپ نے عملی نمونے سے اُن کو گائے کے گوشت سے جو نفرت دلوا دی تھی وہ پھر بھی دُور نہ ہوئی۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ عمل چونکہ نظر آنے والی چیز ہے اس لئے لوگ اُس کی نقل کر لیتے ہیں اور یہ پیج پھر بڑھتا چلا جاتا ہے۔لیکن عقیدہ کیونکہ نظر آنے والی چیز نہیں ہے اس لئے وہ اپنے دائرے میں محدود رہتا ہے۔اور اس کی مثال اس طرح ہی ہے کہ عقیدہ ایک پیوندی درخت ہے۔درخت کو جس طرح پیوند لگائی جائے تو پھر اُس سے نئی شاخ پھوٹتی ہے، نئی قسم کا پھل نکل آتا ہے۔اسے خاص طور پر لگا یا جائے تو لگتا ہے۔عمل کی مثال تخمی درخت کی طرح ہے یعنی جو بیج سے پھیلتا ہے۔آپ ہی آپ اس کا بیج زمین میں جڑ پکڑ کر اُگنے لگ جاتا ہے جب بھی موسم ساز گار ملتا ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحه 346 تا 350 خطبہ جمعہ فرمودہ 29 مئی 1936ء) پس بُرے عمل کا پھیلنا بہت آسان ہے اور یہ معاشرے میں اپنوں کے بد عمل کی وجہ سے بھی پھیلتا ہے اور غیروں کے بدعمل کی وجہ سے بھی پھیلتا ہے۔یعنی نیکیوں اور بدیوں کے پھیلنے میں معاشرے کا بہت زیادہ اثر ہے۔اس لئے ہمیشہ اس بات کو ہمیں اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔بعض اور اسباب بھی ہیں جو انشاء اللہ آئندہ بیان کروں گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اصلاح کی طرف اور اپنے بچوں کی عملی اصلاح کی طرف ہمیشہ تو جد رکھنے کی توفیق عطا فرماتا رہے۔آج ایک افسوسناک خبر بھی ہے۔جمعہ کی نمازوں کے بعد میں ایک جنازہ بھی پڑھوں گا جو مکرم خالد احمد البراقی مرحوم سیریا کا ہے۔خالد براقی صاحب انجینئر تھے۔37 سال ان کی عمر تھی۔ان کے والدین کو 1986ء میں دمشق کے نواحی علاقے کی ایک بستی ' حوش عرب میں سب سے پہلے بیعت کرنے کی توفیق ملی۔بیعت کرنے کے بعد ان کے والد صاحب کو مخالفت اور دھمکیوں کے ساتھ 1989ء میں چھ ماہ کی جیل بھی کاٹنی پڑی۔اسی طرح حالیہ فسادات میں جو شام میں ہو رہے ہیں ، 2012ء اور 2013ء میں بھی دو دفعہ ان کے والد کو گرفتار کیا گیا۔خالد براقی صاحب کے سب بہن بھائی بچپن سے ہی احمدی ہیں۔انہیں 18 ستمبر 2013 ء کی شام کو وہاں کی جو انٹیلی جنس کی ایجنسی ہے، اُس کی کسی برانچ نے گرفتار کیا جس کے بعد ان کے بارے میں کوئی کسی قسم کی معلومات نہیں مل سکیں۔یہاں تک کہ 19 دسمبر 2013 ء کو ان کے والد کو ملٹری انٹیلی جنس کی ایک برانچ میں بلایا گیا اور وہاں اُن کے بیٹے کے بعض کا غذات وغیرہ تھا