خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 691
خطبات مسرور جلد 11 691 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 دسمبر 2013ء پڑھ لوں گا۔یا یہ جواب سنتا ہے کہ بھول گئی ، یا یہ جواب سنتا ہے کہ پڑھ لی، حالانکہ بچہ سارا دن ماں کے ساتھ رہا اور اُسے پتہ ہے کہ ماں نے نماز نہیں پڑھی۔تو بچہ یہ جواب ذہن میں بٹھا لیتا ہے۔اسی طرح باپ کی غلط باتیں جو ہیں وہ بچے کے ذہن میں آجاتی ہیں اور اُن کے جو بھی جواب غلط رنگ میں باپ دیتا ہے، وہ پھر بچہ ذہن میں بٹھا لیتا ہے۔تو ماں باپ دونوں بچے کی تربیت کے لحاظ سے اگر غلط تربیت کر رہے ہیں یا غلط عمل کر رہے ہیں تو اُس کو غلط رنگ کی طرف لے جا رہے ہیں۔اپنے عمل سے غلط تعلیم اس کو دے رہے ہیں۔اور بچہ پھر بڑے ہو کے یہی کچھ کرتا ہے،عملاً یہی جواب دیتا ہے۔اسی طرح ہمسایوں، ماں باپ کی سہیلیوں اور دوستوں کے غلط عمل کا بھی بچے پر اثر پڑ رہا ہوتا ہے۔پس اگر اپنی نسل کی ، اپنی اولاد کی حقیقی عملی اصلاح کرنی ہے تاکہ آئندہ عملی اصلاح کا معیار بلند ہو تو ماں باپ کو اپنی حالت کی طرف بھی نظر رکھنی ہوگی۔اور اپنی دوستیاں ایسے لوگوں سے بنانے کی ضرورت ہو گی جو عملی لحاظ سے ٹھیک ہوں۔تو بہر حال بچپن میں نقل کی بھی عادت ہوتی ہے اور ماحول کا اثر بھی ذہن میں بیٹھ جانے والا ہوتا ہے۔اگر بچے کو نیک ماحول میں رکھ دیں گے تو نیک کام کرتا چلا جائے گا۔اگر بُرے ماحول میں رکھ دیں گے تو برے کام کرتا چلا جائے گا۔اور بُرے کام کرنے والے کو جب بڑے ہو کر سمجھایا جائے گا کہ یہ بری چیز ہے اُسے مت کرو تو اُس وقت وہ اُن کے اختیار سے نکل چکا ہوگا۔پھر ماں باپ کو شکوہ نہیں ہونا چاہئے کہ ہمارے بچے بگڑ گئے۔پس ماں باپ کی یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ اپنے عمل سے بچوں کو بھی نمازی بنا ئیں۔اپنے عمل سے بچوں کو بھی سچ پر قائم کریں۔اپنے عمل سے دوسرے اعلیٰ اخلاق بھی اُن کے سامنے رکھیں تا کہ وہ بھی اُن اخلاق کو اپنانے والے ہوں۔جھوٹی قسمیں کھانے سے اپنے آپ کو بھی بچائیں تا کہ بچے بھی بچ سکیں۔عملی طور پر بچپن میں پیدا کئے گئے خیالات کا کس قدر اثر رہتا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک صحابی کی مثال دی ہے جو سکھوں کے ایک رئیس خاندان سے تھے اور احمدی ہو گئے تھے، گائے کا گوشت نہیں کھاتے تھے اور اُن کے ساتھیوں نے اُن کی چڑ بنالی تھی کہ ہم نے آپ کو گائے کا گوشت ضرور کھلانا ہے۔حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ مہمان خانے میں آگے آگے وہ تیز تیز چلے جارہے ہیں اور پیچھے پیچھے اُن کے دوست کہہ رہے ہیں، ہم نے آپ کو آج یہ بوٹی ضرور کھلانی ہے۔اور وہ ہاتھ جوڑ رہے ہیں کہ خدا کے لئے یہ نہ کرو۔اور بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ان کو یا کسی اور نومسلم کوکسی نے کھلا دی تو عملاً اتنی کراہت آئی کہ اس نے اُس کی قے کردی۔