خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 690 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 690

خطبات مسرور جلد 11 690 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 دسمبر 2013ء سیکھ کر بچہ اعلیٰ اخلاق والا بنتا ہے۔ماں باپ نیک ہیں، نمازی ہیں، قرآن پڑھنے والے ہیں، اُس کی تلاوت کرنے والے ہیں، آپس میں پیار اور محبت سے رہنے والے ہیں، جھوٹ سے نفرت کرنے والے ہیں تو بچے بھی اُن کے زیر اثر نیکیوں کو اختیار کرنے والے ہوں گے۔لیکن اگر جھوٹ لڑائی جھگڑا ، گھر میں دوسروں کا استہزاء کرنے کی باتیں ، جماعتی وقار کا بھی خیال نہ رکھنا یا اس قسم کی برائیاں جب بچہ دیکھتا ہے تو اس نقل کی فطرت کی وجہ سے یا ماحول کے اثر کی وجہ سے پھر وہ یہی برائیاں سیکھتا ہے۔باہر جاتا ہے تو ماحول میں ، دوستوں میں جو کچھ دیکھتا ہے، وہ سیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔اس لئے بار بار میں والدین کو تو جہ دلاتا ہوں کہ اپنے بچوں کے باہر کے ماحول پر بھی نظر رکھا کریں اور گھر میں بھی بچوں کے جو پروگرام ہیں، جو ٹی وی پروگرام وہ دیکھتے ہیں یا انٹر نیٹ وغیرہ استعمال کرتے ہیں اُن پر بھی نظر رکھیں۔پھر یہ بات بھی بہت توجہ طلب ہے کہ بچوں کی تربیت کی عمر انتہائی بچپن سے ہی ہے۔یہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے۔یہ خیال نہ آئے کہ بچہ بڑا ہو گا تو پھر تربیت شروع ہوگی۔دوسال ، تین سال کی عمر بھی بچے کی تربیت کی عمر ہے۔جیسا کہ میں نے کہا، بچہ گھر میں ماں باپ سے اور بڑوں سے سیکھتا ہے اور اُن کو دیکھتا ہے اور اُن کی نقل کرتا ہے۔ماں باپ کو کبھی یہ خیال نہیں ہونا چاہئے کہ ابھی بچہ چھوٹا ہے، اُسے کیا پتہ؟ اُسے ہر بات پتہ ہوتی ہے اور بچہ ماں باپ کی ہر حرکت دیکھ رہا ہوتا ہے اور لاشعوری طور پر وہ اُس کے ذہن میں بیٹھ رہی ہوتی ہے۔اور ایک وقت میں آکے پھر وہ اُن کی نقل کرنا شروع کر دیتا ہے۔بچیاں ماؤں کی نقل میں اپنی کھیلوں میں اپنی ماؤں جیسے لباس پہننے کی کوشش کرتی ہیں، اُن کی نقالی کرتی ہیں۔لڑ کے باپوں کی نقل کرتے ہیں۔جو برائیاں یا اچھائیاں ماں باپ میں ہیں، اُن کی نقل کریں گے۔مثلاً جب یہ بڑے ہوں گے اور ان کو پڑھایا جائے گا کہ یہ برائیاں ہیں اور یہ اچھائیاں ہیں، جیسے مثلاً جھوٹ ہے، یہ بولنا برائی ہے، وعدہ پورا کرنا اچھائی ہے۔لیکن ایک بچہ جس نے اپنے ماں باپ کی سچائی کے اعلیٰ معیار نہیں دیکھے ، جس نے ماں باپ اور گھر کے بڑوں سے کبھی وعدے پورے ہوتے نہیں دیکھے، وہ تعلیم کے لحاظ سے تو بیشک سمجھیں گے کہ یہ جھوٹ بولنا برائی ہے اور وعدے پورے کرنا نیکی ہے اور اچھائی ہے لیکن عملاً وہ ایسا نہیں کریں گے کیونکہ اپنے گھر میں اس کے خلاف عمل دیکھتے رہے ہیں۔بچوں کی عادتیں بچپن سے ہی پختہ ہو جاتی ہیں، اس لئے وہ بڑے ہو کر اس کو نہیں تسلیم کریں گے۔اگر ماں کو بچہ دیکھتا ہے کہ نماز میں ست ہے اور باپ گھر آ کر پوچھے اگر کہ نماز پڑھ لی تو کہہ دے کہ ابھی نہیں پڑھی، پڑھ لوں گی تو بچہ کہتا ہے کہ یہ تو بڑا اچھا جواب ہے۔مجھ سے بھی اگر کسی نے پوچھا کہ نماز پڑھ لی تو میں بھی یہی جواب دے دیا کروں گا۔ابھی نہیں پڑھی،