خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 688
خطبات مسرور جلد 11 688 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 دسمبر 2013ء رہا۔آپ نے ایک گھونٹ اس پیالی میں سے لے لیا۔تو اس پر وہاں بیٹھے غیر از جماعت لوگوں نے شور مچادیا کہ دیکھو مہدی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور رمضان کے مہینے میں روزہ نہیں رکھا ہوا۔اُن لوگوں کے نزد یک روزے کی اہمیت یہ ہے کہ روزہ رکھ لو چاہے خدا تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی ہو۔حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں کہ ان میں سے شاید نوے فیصد نماز بھی نہیں پڑھتے ہوں گے، اُس کے بھی تارک ہوں گے اور ننانوے فیصد جھوٹ بولنے والے، دھوکہ فریب کرنے والے، مال لوٹنے والے تھے، مگر یہ بھی سچ ہے کہ اُن میں سے ننانوے فیصد یقیناً اُس وقت روزے دار بھی ہوں گے کیونکہ روزے کوسب سے بڑی نیکی سمجھا جاتا ہے۔مگر وہ روزہ اُس طرح نہیں رکھتے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو جھوٹ بولتا ہے، غیبت کرتا ہے ، گالی دیتا ہے، خدا تعالیٰ کے نزدیک اُس کا روزہ روزہ نہیں ہے، وہ صرف بھوکا پیاسا رہتا ہے۔اگر ہم جائزہ لیں تو مسلمانوں کی جو اکثریت ہے اس معیار کے مطابق بھوکی پیاسی رہتی ہے۔مگر یہ بھوکا پیاسا رہنا اُن کے نزدیک بہت بڑی نیکی ہے اور اُن کا بیڑا پار کرنے کے لئے کافی ہے۔یا چند مزید نیکیوں کو جو اُن کے نزدیک بڑی ہیں اُس میں شامل کر لیں گے کہ اسی سے ہماری بخشش کے سامان ہو گئے۔ایسے لوگ جو ہیں وہ نہ دنیا میں نیکیاں قائم کرنے والے ہو سکتے ہیں ، نہ ہی وہ صحیح معیارِ گناہ قائم کر سکتے ہیں۔انہوں نے خود ساختہ بڑی نیکیوں اور چھوٹی نیکیوں اور بڑے گناہوں اور چھوٹے گناہوں کے معیار قائم کر لئے ہیں اور نتیجہ وہ جو بھی اُن کی نیکی کی تعریف ہے، اُس کے مقابلے پر بڑی نیکی اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اور جس بدی کو چھوٹا سمجھتے ہیں اُس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے ،اُس کو نہ چھوڑنا یہی ہے کہ اُس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔اور یوں ایک برائی سے دوسری برائی میں دھنتے چلے جاتے ہیں۔حالانکہ اسلام نے اُس نیکی کو بڑا قرار دیا ہے جسے کرنا مشکل ہو اور وہ ہر ایک کے لئے مختلف ہے، اور اُس بدی کو بڑا قرار دیا ہے جس سے بچنا مشکل ہو۔پس اگر ہم نے اپنی اصلاح کرنی ہے تو ہمیشہ یہ بات سامنے رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہر نیکی کو اختیار کرنے اور ہر بدی سے بچنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ہماری خود ساختہ تعریفیں ہمیں نیکیوں پر قدم مارنے والا اور بدیوں سے روکنے والا نہیں بنا ئیں گی۔اگر خود ہی تعریفیں کرنے لگ جائیں اور کچھ بدیاں چھوڑیں اور کچھ نہ چھوڑیں اور کچھ نیکیاں اختیار کریں اور کچھ نہ اختیار کریں تو بسا اوقات انسان اپنے آپ کو نقصان پہنچا لیتا ہے۔چھوٹی نظر آنے والی نیکیاں عدم توجہ کی وجہ سے نیکیوں سے بھی محروم کر دیتی ہیں اور اکثر معمولی نظر آنے والی بدیاں روحانیت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچادیتی ہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے طہارت اور