خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 63
خطبات مسرور جلد 11 63 10 5 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ یکم فروری 2013ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احد خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ یکم فروری 2013ء بمطابق یکم تبلیغ 1392 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: گزشتہ سے پچھلے جمعہ بارہ ربیع الاول تھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے حوالے سے میں نے بتایا تھا کہ پاکستان میں میلادالنبی کے جلسے اور جلوس منعقد ہو رہے ہیں۔جن میں خاص طور پر پاکستان میں سابقہ تجربہ کی بنا پر میں نے کہا تھا کہ یہ قوی امکان ہے کہ سیرت اور عشق رسول کا کم ذکر ہو اور خاص طور پر ربوہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور جماعت کے خلاف مغلظات اور دریدہ دہنی کا زیادہ اظہار ہو گا۔چنانچہ جور پورٹس آئیں ، وہی کچھ ہوا۔جلسے کئے گئے ، ربوہ کی گلیوں میں جلوس نکالے گئے اور مغلظات بکی گئیں۔اُن کو سب کچھ کہنے کی آزادی ہے۔احمدیوں کو اللہ اور رسول کا نام لینے کی بھی آزادی نہیں۔بہر حال یہ علماء سوء کا کام ہے۔اللہ تعالیٰ قوم پر بھی رحم فرمائے کہ ان نام نہاد علماء کے چنگل سے آزاد ہوں۔یہ گالیاں بکنا تو ان نام نہاد علماء کا کام ہے، یہ بگتے رہیں گے۔اور یہ بات کہ یہ گالیاں بکیں یا روکیں ڈالیں ، جماعت کی ترقی میں یہ روکیں کوئی کردار ادا نہیں کرسکتیں بلکہ ہر مخالفت جماعت کی ترقی کے قدم پہلے سے آگے بڑھاتی ہے۔اس وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی چند تحریرات آپ کے سامنے رکھوں گا جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان، مقام اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنے آقاومطاع سے عشق و محبت اور غیرت کا اظہار ہوتا ہے اور اس کے نمونے ملتے ہیں۔ایک طرف یہ مخالفین ہیں جو دریدہ دہنی کر رہے ہیں۔دوسری طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں جو کس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بیان فرماتے ہیں۔تمام انبیاء پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت بیان فرماتے ہوئے