خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 683
خطبات مسرور جلد 11 683 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 دسمبر 2013ء نے ہمیں بار بار توجہ دلائی ہے۔اگر ہم ایمانداری سے اپنے جائزے لیں تو جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ یہ باتیں سن کر جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائی ہیں، کچھ دن کے لئے تو ہماری عملی اصلاح ہوتی ہے اور پھر واپس اپنی اُسی ڈگر پر ہم میں سے اکثر چلنا شروع کر دیتے ہیں جس پر پہلے تھے۔پس ہم اُس گڈے کی طرح ہیں جس کی مثال میں گزشتہ خطبوں میں بھی دے چکا ہوں۔جس پر جب تک ڈھکنے کا دباؤ پڑا رہے، بند رہتا ہے اور ڈھکنا کھلتے ہی سپرنگ اُسے اچھال کر باہر پھینک دیتا ہے۔اسی طرح جب تک ایک موضوع پر مسلسل نصیحت کی جاتی رہے اکثر لوگوں پر اثر رہتا ہے اور جب ان نصیحتوں اور توجہ کا دباؤ ختم ہوتا ہے تو پھر نفس کا سپرنگ یا برائیوں کا سپرنگ کسی نہ کسی برائی کو اچھال کر پھر ظاہر کر دیتا ہے۔کئی مخلصین نے گزشتہ خطبوں کے بعد مجھے لکھا کہ ہم کوشش بھی کر رہے ہیں اور دعا بھی ، اور آپ بھی دعا کریں کہ ان خطبات کے زیر اثر بہت سی برائیوں کا گڑا جو ڈبے میں بند ہوا ہے یہ بند ہی رہے اور کچھ عرصے بعد باہر نہ نکل آئے۔بہر حال ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا وجہ ہے کہ یہ جبیک (Jack) یا گڈا بار بار باکس سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے۔کسی بھی چیز کی اصلاح تبھی ہوسکتی ہے اور اصلاح کی کوشش کے مختلف ذرائع تبھی اپنائے جا سکتے ہیں جب اس کمی کی وجوہات معلوم ہوں، اسباب معلوم ہوں تا کہ اُن وجو ہات کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔اگر وجہ قائم رہے تو عارضی اصلاح کے بعد پھر برائی عو د کرے گی، واپس آئے گی۔اس پہلو سے جب میں نے غور کیا اور مزید پڑھا تو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک تجزیہ مجھے ملا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے طریق تحریر اور تقریر کی یہ خوبی ہے کہ ممکنہ سوال اُٹھا کر اُن کا حل بھی مثالوں سے بتاتے ہیں۔قرآن، حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام کی روشنی میں جس طرح آپ مسئلے کا حل بتاتے ہیں، اس طرح اور کہیں دیکھنے میں نہیں آتا۔بہر حال اس وجہ سے میں نے سوچا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خطبات سے ہی استفادہ کرتے ہوئے اُس کی روشنی میں ان وجوہات کو بھی آپ کے سامنے بیان کروں۔اعمال کی اصلاح کے بارے میں جو چیزیں روک بنتی ہیں یا اثر انداز ہوتی ہیں، اُن میں سے سب سے پہلی چیز لوگوں کا یہ احساس ہے کہ کوئی گناہ بڑا ہے اور کوئی گناہ چھوٹا۔یعنی لوگوں نے خود ہی یا بعض علماء کی باتوں میں آکر اُن کے زیر اثر یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ بعض گناہ چھوٹے ہیں اور بعض گناہ بڑے ہیں اور یہی بات ہے جو عملی اصلاح میں روک بنتی ہے۔اس سے انسان میں گناہ کرنے کی دلیری پیدا ہوتی ہے،