خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 678 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 678

خطبات مسرور جلد 11 فرمان کو سامنے رکھنا چاہئے کہ 678 د میں تھا غریب و بے کس و گمنام و بے ہنر خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6دسمبر 2013ء (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 20) پس جب ہم اپنی عملی حالتوں میں بیکسی ، غربت اور بے ہنری کے اظہار پیدا کریں گے تو پھر ہی خدمت کا بھی حق ادا کرنے والے ہوں گے۔اور شاید کہ اس سے دخل ہو دار الوصال میں“ کی امید رکھنے والے بھی ہوں گے۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 18) اگر یہ نہیں تو ہم دعوے کی حد تک تو بے شک درست ہوں گے کہ زمانے کے امام کو مان لیا لیکن حقیقت میں زبانِ حال سے ہم دعوے کا مذاق اُڑا رہے ہوں گے۔کسی غیر کی دشمنی ہمیں نقصان نہیں پہنچا رہی ہوگی بلکہ خود ہمارے نفس کا دوغلا پن ہمیں رسوا کر رہا ہوگا۔اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اس پر مستزاد ہے۔پس خاص طور پر ہر اُس شخص کو جس کو جماعت کی خدمت پر مامور کیا گیا ہے اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے اور عام طور پر ہر احمدی کو اپنا جائزہ لینا چاہئے کیونکہ حق بیعت زبانی دعووں سے اور صرف ماننے سے ادا نہیں ہوتا بلکہ عمل کی قوت جب تک روشن نہ ہو، کچھ فائدہ نہیں۔پس ہم اگر یہ اعلان کرتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے کہ کوئی بشر موت سے باہر نہیں رہا۔اگر ہمارا یہ اعلان ہے کہ خدا تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں نبی بھیج سکتا ہے اور آج بھی جس سے چاہے کلام کر سکتا ہے اور وحی کر سکتا ہے کیونکہ اُس کی کوئی صفت محدود اور خاص وقت کے لئے نہیں۔اور ہم یہ کہتے ہیں کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق اور آپ کی پیروی اور محبت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیر شرعی نبی کا اعزاز دے کر بھیجے گئے ہیں اور ہم نے اُن کو مانا ہے۔اگر ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ قرآن کریم وہ آخری شرعی کتاب ہے جو چودہ سوسال سے اپنی اصلی حیثیت میں محفوظ چلی آ رہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اپنے ذمہ لی ہے اور کوئی دوسری شرعی کتاب آج اپنی اصلی حالت میں محفوظ نہیں۔جب ہم دنیا کو بتاتے ہیں کہ تم جتنا شور مچالو کہ قرآن کریم اپنی اصلی حالت میں نہیں یا چند صدیاں پہلے لکھی گئی ہے۔جیسا کہ آج کل اسلام مخالف ٹی وی پروگراموں میں اور تحریروں میں بھی یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ قرآنِ کریم نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نہیں اترا تھا بلکہ یہ چھ سات سو سال پہلے لکھا گیا تھا تو ہم ثابت کرتے ہیں کہ تم