خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 667 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 667

خطبات مسرور جلد 11 667 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 نومبر 2013ء جماعت میں ہر قسم کے اعمال کے لحاظ سے ایسے نمونے ملتے ہیں جن کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ صحابہ کے نمونے ہیں لیکن ہمیں اس پر خوش نہیں ہونا چاہئے بلکہ کوشش کرنی چاہئے کہ ساری جماعت ایسی ہو جائے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس امانت کی قدر کریں جو اُن کے سپرد کی گئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آ کر ہمیں جائیداد میں نہیں دیں، حکومتیں نہیں دیں، کوئی ایجادیں نہیں کیں، سامان تعیش ہمیں مہیا نہیں کئے ، عیش کرنے کے سامان مہیا نہیں کئے ،صرف ایک سچائی ہے جو ہمیں دی ہے۔اگر وہ بھی جاتی رہے تو کس قدر بد قسمتی ہوگی اور ہم اس فضل کو اپنے ہاتھ سے پھینک دینے والے ہوں گے جو تیرہ سو سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے نازل کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہم کو اسلام دیا ، اخلاق فاضلہ دیئے اور نمونے سے بتادیا کہ ان پر عمل ہوسکتا ہے۔پھر آپ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ مارٹن کلارک نے عدالت میں یہ دعویٰ کیا کہ میرے قتل کے لئے مرزا صاحب نے ایک آدمی بھیجا ہے۔مسلمانوں میں علماء کہلانے والے اُس کے ساتھ اس شور میں شامل ہو گئے۔چنانچہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی تو اس مقدمہ میں آپ کے خلاف شہادت دینے کے لئے بھی آئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت الہام بتادیا تھا کہ ایک مولوی مقابل پر پیش ہو گا مگر اللہ تعالیٰ اُسے ذلیل کرے گا۔لیکن باوجود اس کے کہ الہام میں اس کی ذلت کے متعلق بتادیا گیا تھا اور الہام کے پورا کرنے کے لئے ظاہری طور پر جائز کوشش کرنا بھی ضروری ہوتا ہے مگر حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ مجھے خود مولوی فضل دین صاحب نے جو لاہور کے ایک وکیل اور اس مقدمے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے پیروی کر رہے تھے، سنایا کہ جب میں نے ایک سوال کرنا چاہا جو ذاتی سوال تھا، جس سے مولوی محمد حسین کی ذلت ہوتی تھی۔مطلب اس وجہ سے ذات پر اُن کے حرف آتا تھا۔تو آپ نے مجھے اس سوال کے پیش کرنے سے منع کر دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ہم ایسے سوالات کو برداشت نہیں کر سکتے۔مولوی فضل دین صاحب نے کہا کہ اس سوال سے آپ کے خلاف مقدمہ کمزور ہو جائے گا اور اگر یہ نہ پوچھا جائے تو آپ کو مشکل پیش آئے گی۔مگر آپ نے فرمایا کہ نہیں ، ہم اس سوال کی اجازت نہیں دے سکتے۔یہ جو وکیل تھے مولوی فضل دین، یہ احمدی نہیں تھے بلکہ حنفی تھے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے وکیل تھے اور آپ کی طرف سے مقدمہ لڑ رہے تھے۔حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ حنفیوں کے لیڈر بھی تھے یہ، انجمن نعمانیہ وغیرہ کے سرگرم کارکن تھے، اس لئے مذہبی لحاظ سے تعصب رکھتے تھے مگر جب بھی کبھی غیر احمدیوں کی مجلس میں حضرت مسیح موعود