خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 657
خطبات مسرور جلد 11 657 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 نومبر 2013ء بھی انتظار کرنا پڑے تو گراں نہیں گزرتا۔اللہ تعالیٰ نے بھی انبیاء کے زمانے کو لیلتہ القدر قرار دیا ہے۔چنانچہ فرمایا کہ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ الْفِ شَهْرٍ ( القدر : 4 ) یعنی وہ ایک رات ہزار مہینوں سے اچھی ہے۔گویا ایک صدی کے انسان بھی اس ایک رات کے لئے قربان کر دیئے جائیں تو یہ قربانی کم ہوگی بمقابلہ اُس نعمت کے جو انبیاء کے ذریعہ دنیا کو حاصل ہوتی ہے۔فرمایا: اس سال میں نے کچھ خطبات عملی اصلاح کے لئے دیئے تھے۔یہ 1936ء کی بات ہے۔آپ نے اس عرصے میں کچھ خطبات دیئے تھے۔اُس میں توجہ دلائی تھی کہ وہ عظیم الشان مقصد جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت ہوئی اُسے پورا کرنے کے لئے ہمیں بڑی قربانیوں کی ضرورت ہے۔اور یہ صرف اُس زمانے کی بات نہیں تھی، یہ ایک جاری سلسلہ ہے اور آج بھی اور آئندہ بھی اس کی ضرورت ہے اور ہوتی رہے گی۔فرمایا کہ اعتقادی رنگ میں ہم نے دنیا پر اپنا سکہ جمالیا ہے مگر عملی رنگ میں اسلام کا سکہ جمانے کی ابھی ضرورت ہے۔کیونکہ اس کے بغیر مخالفوں پر حقیقی اثر نہیں ہو سکتا۔پھر آپ نے مثال دی ہے کہ موٹی مثال عملی رنگ میں سچائی کی ہے۔یعنی ایک مثال میں سچائی کی دیتا ہوں۔اس کو اگر ہم عملی رنگ میں دیکھیں تو کس طرح ہے؟ فرمایا کہ یہ ایسی چیز ہے جسے دشمن بھی محسوس کرتا ہے۔دل کا اخلاص اور ایمان دشمن کو نظر نہیں آتا مگر سچائی کو وہ دیکھ سکتا ہے۔حقیقت یہی ہے کہ سچائی بہت زیادہ اثر ڈالتی ہے۔اُس زمانے میں بھی حضرت مصلح موعود کو فکر ہوتا تھا اور اب اس زمانے میں بھی مجھے بعض غیروں کے خط آتے ہیں جن میں احمدیوں کا سچائی کا جو پراسیس ہوتا ہے اُس کا ذکر کیا ہوتا ہے۔اور اس وجہ سے وہ جماعت کی تعریف کرتے ہیں۔اور جن احمدیوں سے اُنہیں دھو کہ اور جھوٹ کا واسطہ پڑا ہو تو پھر وہ یہی لکھتے ہیں کہ ہم نے جماعت کی نیک نامی کی وجہ سے اعتبار کر لیا لیکن آپ کے فلاں فلاں فرد جماعت نے ہمیں اس طرح دھو کہ دیا ہے۔پس ایسا دھوکہ دینے والے جو بظاہر تو اپنے ذاتی معاملات میں یہ کہتے ہیں کہ ہماری اپنی dealing ہے، بزنس ہے، کاروبار ہے جو ہم کر رہے ہیں، جماعت کا اس سے کیا واسطہ؟ لیکن آخر کار وہ جماعت پر بھی حرف لانے کا مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں۔جماعت کو بدنام کرنے کے مرتکب ہورہے ہوتے ہیں۔حضرت مصلح موعود نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعوے سے پہلے کا ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ خاندانی جائداد کے متعلق ایک مقدمہ تھا۔اور جگہ بتائی کہ اس مکان کے چبوترے کے سامنے ایک تھڑا بنا ہوا تھا، جہاں خلافت ثانیہ میں صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر ہوا کرتے تھے، اب تو قادیان میں کچھ تبدیلیاں ہوگئی ہیں، دفاتر وہاں سے چلے گئے ہیں۔فرماتے ہیں کہ اس چبوترے کی زمین دراصل ہمارے خاندان