خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 650
خطبات مسرور جلد 11 650 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 نومبر 2013ء سے بچنا۔ایک مومن اور ایک احمدی کی یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ اس دنیا وی دور میں جب ہر طرف سے شیطانی حملے ہو رہے ہیں اور برائیاں ہر کونے پر منہ کھولے کھڑی ہیں ان برائیوں سے بچنے کے لئے جہاد کرے۔اپنے نفس کو قابو میں رکھے۔پھر صبر کا مطلب ہے کہ نیکی پر ثابت قدم رہے۔یہ نہیں کہ وقتی نیکی ہو اور جب کہیں دنیا کا لالچ اور بدی کی ترغیب نظر آئے تو نیکی کو بھول جاؤ۔اعمالِ صالحہ بجالانے کی طرف ہمیشہ توجہ رہے۔ان اعمالِ صالحہ کی قرآن کریم میں تلاش کی ضرورت ہے۔پھر صبر یہ ہے کہ ہر صورت میں اپنے معاملات خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کرنا۔ہر مشکل میں، ہر پریشانی میں ، ہر تکلیف میں خدا تعالیٰ کے سامنے معاملہ پیش کرنا۔کسی بھی بات میں کوئی جزع فزع نہیں۔پس صبر کی یہ حالتیں ہوں گی تو اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال ہوگی۔روحانی مدارج میں ترقی ہوگی۔دنیا کی کروڑوں کی جو دولت ہے اُس کے مقابلے میں ایک مومن کا ایک پاؤنڈ ، ایک ڈالر ، ایک روپیہ جو ہے وہ وہ کام دکھائے گا جود نیا کو حیران کر دے گا۔پھر صبر کے ساتھ برائیوں سے بچنے اور نیکیوں پر ثابت قدم ہونے اور خدا تعالیٰ کے حضور اپنے معاملات پیش کرنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صلوۃ کی بھی ضرورت ہے۔اور صلوٰۃ کے بھی مختلف معنی ہیں۔صلوۃ کے ایک معنی نماز کے ہیں۔یعنی یہاں جو نصیحت ہے کہ مومنوں کو نماز کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل کرنی چاہئے اور نماز کا حق ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔صبر کے اعلیٰ نتائج اُس وقت ظاہر ہوں گے جب نمازوں کی طرف بھی توجہ پیدا ہو گی۔پھر اس کے یہ معنی بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت حاصل کرو، استغفار کرو۔صلوۃ میں یہ سب معنی آ جاتے ہیں۔پھر صرف یہ ظاہری نماز نہیں بلکہ دعاؤں کی طرف اُن کا حق ادا کرتے ہوئے توجہ کرو۔خدا تعالیٰ کی مخلوق پر رحم کرو۔اُن کے بھی حق ادا کرو تا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو تا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہو۔پس یہ وسعت صبر اور صلوۃ میں پیدا ہوگی تو اللہ تعالیٰ کی مغفرت بھی حاصل ہو گی اور تمام کام آسان ہوں گے اور ہوتے چلے جائیں گے، انشاء اللہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے اور فضل اور رحم کے دروازے کھلیں گے۔پس ایک مومن کا یہ کام ہے کہ اپنی کوششوں ، اپنی عبادتوں ، اپنی دعاؤں، اپنے اخلاق کو انتہا تک پہنچاؤ۔جو کچھ تمہارے بس میں ہے وہ کر گزرو، پھر معاملہ خدا تعالیٰ پر چھوڑ دو۔لیکن اگر صبر کا حق ادا نہیں کرو گے، اگر صلوۃ کا حق ادا نہیں کر رہے تو پھر یقینا اللہ تعالیٰ کے انعامات کے حصہ دار نہیں بن سکتے۔جیسا کہ