خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 647
خطبات مسرور جلد 11 647 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 نومبر 2013ء اور کوئی فکر نہ کریں تو یہ عہد بیعت کا حق ادا کرنے والی بات نہیں ہو گی۔یہ دعویٰ قبول کر کے بیٹھ جانا اور سو جانا ہمیں مجرم بناتا ہے۔لیکن ساتھ ہی جب ہم اپنے وسائل کو دیکھتے ہیں، اپنی حالتوں کو دیکھتے ہیں تو سوچتے ہیں کہ کیا یہ سب کچھ ہوسکتا ہے۔ہم کریں بھی تو کیا کریں گے کہ ایک طرف ہمارے وسائل محدود اور دوسری طرف دنیا کی اسی فیصد سے زائد آبادی کو مذہب سے دلچسپی نہیں ہے، دنیا کے پیچھے بھاگنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ان ترقی یافتہ ممالک میں دولت ہے، ہر قسم کی ترقی ہے، دوسرے ماڈی اسباب ہیں جنہوں نے یہاں رہنے والوں کو خدا سے دور کر دیا ہے۔یہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس وقت نہیں کہ خدا تعالیٰ کی تلاش میں وقت ضائع کریں۔ابھی کل کی ڈاک میں ہی ایک احمدی کا جاپان سے ایک خط تھا، بڑے درد کا اظہار تھا کہ میں نے اپنے ایک جاپانی دوست سے کہا، اُن کے بڑے اچھے اور اعلیٰ اخلاق ہیں، تعلقات بھی اُن سے اچھے ہیں ، بات چیت بھی ہوتی رہتی ہے، جب اُسے یہ کہا کہ خدا سے دعا کریں کہ ہدایت کی طرف رہنمائی ہو تو کہنے لگے کہ میرے پاس وقت نہیں ہے کہ تمہارے خدا کی تلاش کرتا پھروں یا خدا سے رہنمائی مانگوں ، مجھے اور بہت کام ہیں۔تو یہ تو دنیا کی حالت ہے۔ان قوموں کی جو اپنے آپ کو ترقی یافتہ مجھتی ہیں یہ حالت ہے۔اور غریب قوموں کو بھی اس ترقی اور دولت کے بل بوتے پر اپنے پیچھے چلانے کی بڑی طاقتیں اور امیر قو میں کوشش کر رہی ہیں۔پس جب یہ صورتِ حال ہو ، سننے کی طرف توجہ نہ ہو یا کم از کم ایک بڑے طبقہ کی توجہ نہ ہو اور دولت اور ماڈیت ہر ایک کو اپنے قبضہ میں لینے کی کوشش کر رہی ہو اور ہمارے وسائل جیسا کہ میں نے کہا، محدود ہوں تو ایسے میں کس طرح ہم دجل اور مادیت کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔بظاہر ناممکن نظر آتا ہے کہ ہم دنیا کی اکثریت کو خدا تعالیٰ کے وجود کی پہچان کروا سکیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو قائم کر سکیں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں اور بڑی تحدی سے فرماتے ہیں کہ میں یہ سب کچھ کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں اور یہ ہوگا۔انشاء اللہ پس ہم بھی آپ کے اس دعوی کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آ کر یہ اعلان کر رہے ہیں، چاہے ظاہر کریں یا نہ کریں لیکن ہمارا بیعت میں آنا ہی ہم سے یہ اعلان کروا رہا ہے اور کروانا چاہئے کہ نَحْنُ اَنْصَارُ الله کہ ہم اللہ کے دین میں مددگار ہیں اور رہیں گے انشاء اللہ۔دنیا کے انکار سے مایوس نہیں ہوں گے۔کیونکہ ہم دنیا کی آنکھ سے دیکھ کر اس کام کو آگے نہیں بڑھا رہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی تائیدات ہمیں ہر قدم پر تسلی دلاتی ہیں کہ اگر تم اللہ میں ہو کر کوشش کرو گے تو نئے راستے کھلتے چلے جائیں گے۔